کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ طویل اور غیر اعلانیہ بجلی کی بندش نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ شہر کا بوسیدہ گرڈ سسٹم بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں ناکام ہے، جس کے باعث کروڑوں افراد حبس زدہ گرمی میں پنکھوں اور کولنگ سسٹم سے محروم ہیں۔ شہر میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی، کے-الیکٹرک، اس صورتحال کا ذمہ دار ایندھن کی قلت اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں تکنیکی خرابیوں کو قرار دے رہی ہے۔ لیاری، کورنگی اور سرجانی ٹاؤن جیسے گنجان آباد علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ 10 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل رہنے کا سامنا ہے۔ ان علاقوں میں بجلی صرف سہولت نہیں، بلکہ ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کی ایک ضرورت بن چکی ہے۔ صدر کے علاقے میں دکاندار احمد رضا نے بتایا کہ "گرڈ سسٹم تباہ حال ہے لیکن بلوں میں اضافہ جاری ہے۔ ریفریجریٹر چل نہیں سکتے، رات کو نیند نصیب نہیں ہوتی۔ یہ ایک خاموش تباہی ہے جو ہم ہر روز جھیل رہے ہیں۔” اس صورتحال کے باعث شہر کے ہسپتالوں میں گرمی سے متاثرہ افراد کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کے مطابق منگل سے پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر رات کے اوقات میں درجہ حرارت کم نہ ہوا تو صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی، کیونکہ جسم کو دن کی تپش سے بحال ہونے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔ صوبائی حکومت اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ حکومت نے "غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ” کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ان بیانات سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔ دوسری جانب کے-الیکٹرک کا موقف ہے کہ ادائیگیاں نہ ہونے اور ایندھن کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث بجلی کی پیداوار اور طلب میں فرق بڑھ گیا ہے۔ جیسے جیسے پارہ چڑھ رہا ہے، شہر کا انفراسٹرکچر اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ بجلی کی بندش کے خلاف شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی شروع ہو چکے ہیں، جہاں مشتعل شہری سڑکوں پر نکل کر حکام سے جواب طلبی کر رہے ہیں۔ ہیٹ ویو کے اختتام ہفتہ تک جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ شہر کے گرڈ سسٹم کے پاس گنجائش ختم ہو چکی ہے، اور کراچی کے شہریوں کے لیے آنے والے چند دن محض بقا کی جنگ ثابت ہوں گے۔
