عالمی نمبر ایک آریانا سبالینکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس میں کھلاڑیوں کو ان کی کمائی کا “منصفانہ حصہ” نہ ملا تو مستقبل میں بائیکاٹ بھی زیرِ غور آ سکتا ہے۔ سبالینکا نے یہ بات 5 مئی 2026 کو روم میں اطالوی اوپن کے موقع پر کہی، جہاں فرنچ اوپن کی انعامی رقم اور مجموعی مالی تقسیم پر بحث اچانک زیادہ تیز ہو گئی۔
اس تنازع کی فوری وجہ رولانڈ گیروس 2026 کی انعامی رقم ہے، جو بڑھا کر 61.7 ملین یورو کر دی گئی ہے۔ مردوں اور خواتین کے سنگلز چیمپئن کو 28 لاکھ یورو ملیں گے، اور منتظمین نے اسے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9.5 فیصد اضافہ قرار دیا ہے۔ کاغذ پر یہ اضافہ خاصا بڑا دکھائی دیتا ہے، مگر سرِفہرست کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ اصل مسئلہ صرف رقم میں اضافہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ گرینڈ سلیم آمدنی کا کتنا حصہ کھلاڑیوں تک پہنچتا ہے۔
حالیہ دنوں میں کئی نمایاں مرد اور خواتین کھلاڑیوں نے رولانڈ گیروس کی 2026 انعامی رقم پر “گہری مایوسی” کا اظہار کیا۔ رپورٹس کے مطابق ان کا مؤقف ہے کہ گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کی بڑی تجارتی آمدنی کے مقابلے میں کھلاڑیوں کا حصہ بہت کم ہے، جبکہ وہ تقریباً 22 فیصد حصے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بعض رپورٹوں میں موجودہ حصہ تقریباً 15 فیصد بتایا گیا ہے۔
سبالینکا نے اس بحث کو مزید نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات سے کوئی مناسب نتیجہ نہ نکلا تو کھلاڑی اجتماعی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ ان کے مؤقف کو کوکو گاف نے بھی کسی حد تک تقویت دی، جبکہ چند دوسرے کھلاڑی بہتر مکالمے اور مالی شفافیت کے حامی تو ہیں، مگر بائیکاٹ جیسے سخت قدم پر ابھی پوری طرح آمادہ نظر نہیں آتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوری بائیکاٹ کا اعلان نہیں ہوا، لیکن کھلاڑیوں کی ناراضی اب کھل کر سامنے آ چکی ہے۔
اس معاملے کی اہمیت صرف پیرس تک محدود نہیں۔ اگر کھلاڑیوں اور گرینڈ سلیم منتظمین کے درمیان یہ کشیدگی برقرار رہی تو ومبلڈن اور یو ایس اوپن جیسے دیگر بڑے ٹورنامنٹس پر بھی اسی نوعیت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ابھی تک یہ ایک انتباہ ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ مگر روم سے آنے والا پیغام صاف تھا: ٹینس کے بڑے نام اب صرف رسمی احتجاج پر اکتفا کرنے کے موڈ میں نہیں۔
