آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کے تازہ تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔ رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ تقریباً 6 فیصد اضافے کے ساتھ 114.44 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں اور تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی ترسیلِ تیل متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ اضافہ محض وقتی ردِعمل نہیں سمجھا جا رہا۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق آبنائے ہرمز سے دنیا کی سمندری تیل تجارت کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ گزرتا ہے، جبکہ عالمی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ بھی اسی راستے سے منسلک ہے۔ اسی لیے اس علاقے میں معمولی فوجی کشیدگی بھی منڈیوں کو ہلا دیتی ہے۔
حالیہ جھڑپ کے بارے میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا کہ امریکی بحری قوتوں اور ایرانی کارروائی کے درمیان براہِ راست تصادم ہوا، جس کے بعد منڈی میں بے چینی بڑھ گئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق جمعے کی ابتدائی ٹریڈنگ میں برینٹ 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 102.70 ڈالر تک گیا، جبکہ اس سے پہلے پیر کو بھی تشدد بڑھنے پر قیمتوں میں قریب 6 فیصد اچھال ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کی منڈی ہر نئے فوجی اشارے پر شدید ردِعمل دے رہی ہے۔
اصل مسئلہ صرف موجودہ جھڑپ نہیں بلکہ آئندہ خطرہ ہے۔ اگر ٹینکرز کی آمدورفت سست پڑتی ہے، راستہ بدلنا پڑتا ہے، یا کچھ وقت کے لیے گزرگاہ متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات خلیج سے بہت باہر تک جائیں گے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں رکاوٹ عالمی گیس اور تیل کی رسد کے لیے بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایشیائی درآمد کنندگان کے لیے۔
اس صورتحال کا ایک وسیع اقتصادی پہلو بھی ہے۔ ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی بڑھی اور برآمدات کی بحالی سست رہی تو 2026 میں برینٹ کی اوسط قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ اسی طرح امریکی EIA نے بھی اپنے اندازوں میں کہا کہ تنازع برقرار رہنے کی صورت میں دوسری سہ ماہی میں برینٹ 115 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یوں تازہ اضافہ ایک بڑے رجحان کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
فی الحال منڈی کا پیغام کافی واضح ہے۔ آبنائے ہرمز میں جیسے ہی گولہ باری یا فوجی کشیدگی کی خبر آتی ہے، تیل مہنگا ہو جاتا ہے۔ جب تک یہ یقین پیدا نہیں ہوتا کہ اس راستے سے جہاز محفوظ اور مسلسل گزر سکتے ہیں، تب تک خام تیل کی قیمت میں جغرافیائی سیاسی خطرے کا اضافی عنصر شامل رہے گا۔
