ایران سے جڑی جنگی کشیدگی نے جہاں خطے میں عدم استحکام بڑھایا ہے، وہیں کچھ شعبوں اور کمپنیوں کے لیے یہ غیرمعمولی مالی فائدے کا سبب بھی بنی ہے۔ دستیاب موجودہ رپورٹنگ کے مطابق سب سے زیادہ فائدہ اس وقت تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں، کموڈٹی ٹریڈرز، اور دفاعی شعبے کے بعض حصوں کو ہو رہا ہے، اگرچہ یہ فائدہ ہر کمپنی یا ہر اسٹاک میں ایک جیسا نظر نہیں آ رہا۔
سب سے نمایاں فائدہ توانائی کے شعبے کو ہوا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق تیل کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز اور توانائی شعبے سے جڑے اندرونی افراد نے پہلی سہ ماہی میں تقریباً 1.4 ارب ڈالر کے شیئر فروخت کیے، کیونکہ جنگ سے جڑی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا۔ دوسری طرف بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ امریکی shale کمپنیوں نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران تقریباً 3.5 ارب ڈالر کے نئے شیئر فروخت کر کے سرمایہ اکٹھا کیا۔ یعنی جنگی خطرے نے قیمتیں بڑھائیں، اور توانائی کمپنیوں نے اسی ماحول میں مالی فائدہ اٹھایا۔
بڑی عالمی توانائی کمپنیاں صرف قیمت بڑھنے سے نہیں بلکہ منڈی کے اتار چڑھاؤ سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ شیل نے کہا کہ تیل اور گیس کی منڈی میں غیر یقینی اور volatility نے trading opportunities پیدا کیں، جس سے کمپنی کی سہ ماہی adjusted earnings 6.92 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگی منافع صرف انہی کمپنیوں تک محدود نہیں جو تیل نکالتی ہیں، بلکہ وہ ادارے بھی کماتے ہیں جو عالمی منڈی کے بگاڑ کو تجارتی فائدے میں بدل سکتے ہیں۔
دفاعی شعبہ دوسرا نمایاں حصہ ہے، لیکن یہاں تصویر کچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔ بلومبرگ کے مطابق ایران جنگ سے منسلک بڑھتے ہوئے عسکری اخراجات نے بڑی دفاعی کمپنیوں کے شیئر ہولڈرز کی دولت میں 28 ارب ڈالر سے زیادہ اضافہ کیا۔ تاہم وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بڑی امریکی defense stocks جنگ شروع ہونے کے بعد اتنی تیزی سے نہیں بڑھیں جتنی بہت سے سرمایہ کاروں نے توقع کی تھی۔ اس لیے دفاعی شعبے میں کمائی ضرور ہو رہی ہے، مگر یہ ہر کمپنی کے لیے یکساں اور فوری نہیں۔
اس خبر کا اصل نکتہ یہ ہے کہ جنگی منافع کئی سطحوں پر پیدا ہوتا ہے۔ کچھ کمپنیاں براہِ راست تیل کی بڑھتی قیمتوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ کچھ market volatility، ہنگامی خریداری، شپنگ رکاوٹوں یا دفاعی بجٹ میں اضافے سے کماتی ہیں۔ اور کچھ کمپنیاں یا اندرونی سرمایہ کار شیئر فروخت کر کے اسی ماحول میں نقد فائدہ سمیٹ لیتے ہیں۔ اس لیے “اربوں کمانے والی کمپنیاں” والی سرخی دراصل سب سے پہلے energy sector، پھر defense spending، اور ساتھ ساتھ financial strategy کی کہانی ہے
