بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی پی ایل فرنچائزز کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ "سلیبرٹی اسٹیٹس” کسی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا لائسنس نہیں دیتا۔ حالیہ سیزن کے دوران میدان اور ڈگ آؤٹ میں مالکان کے نامناسب رویے اور پروٹوکول کی خلاف ورزیوں پر بورڈ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
بورڈ کا پیغام واضح ہے: ڈگ آؤٹ صرف حکمت عملی کے لیے ہے، تماشے کے لیے نہیں۔
اندرونی رپورٹس کے مطابق، بی سی سی آئی 2024 کے سیزن میں بعض مالکان کے رویے سے خاصا نالاں ہے۔ اگرچہ آئی پی ایل اپنی چکا چوند اور جوش و خروش کے لیے جانی جاتی ہے، لیکن بورڈ کا ماننا ہے کہ مالکان کا کھلاڑیوں پر سرِعام برسنا یا میچ آفیشلز کے کام میں مداخلت کرنا لیگ کے پیشہ ورانہ معیار کو براہِ راست نقصان پہنچا رہا ہے۔
بورڈ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "اس سال جنون اور بدتمیزی کے درمیان کی لکیر کئی بار عبور کی گئی۔ ہم نے مالکان کو ان جگہوں پر دیکھا جہاں ان کا ہونا ممنوع تھا، اور تکنیکی عملے کے ساتھ ان کے رویے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔ اب یہ سب بند ہونا چاہیے۔”
یہ سخت موقف ممبئی میں ہونے والے ایک حالیہ اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں کئی فرنچائزز کی سرزنش کی گئی۔ بورڈ کو خدشہ ہے کہ مالکان کی حد سے زیادہ مداخلت نہ صرف کھیل کے تقدس کو پامال کرتی ہے بلکہ کوچنگ اسٹاف کی اتھارٹی کو بھی کمزور کر رہی ہے۔
بورڈ نے پروٹوکول کی درج ذیل خلاف ورزیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے:
* اسٹریٹجک ٹائم آؤٹ کے دوران غیر متعلقہ افراد کا میدان میں داخل ہونا۔
* ٹیم کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے امپائرنگ کے فیصلوں پر سرِعام تنقید۔
* میچ کے بعد ریفریز کے ساتھ جارحانہ رویہ اور تلخ کلامی۔
ٹیموں کے لیے اب صورتحال محض جرمانے تک محدود نہیں رہی۔ بی سی سی آئی اب بھاری مالی جرمانے کے ساتھ ساتھ بار بار خلاف ورزی کرنے والے مالکان پر ڈگ آؤٹ میں داخلے کی پابندی جیسے سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ ماضی میں جرمانے کو محض "کاروبار کا حصہ” سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا، لیکن اب بورڈ اسے نظم و ضبط کا مسئلہ بنا چکا ہے۔
فرنچائزز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مالکان اور معاون عملے کی فوری طور پر "اصلاح” کریں۔ بورڈ چاہتا ہے کہ توجہ وی آئی پی باکسز کے بجائے دوبارہ کرکٹ پر مرکوز ہو۔
یہ معاملہ صرف نظم و ضبط کا نہیں بلکہ آئی پی ایل کے برانڈ کو بچانے کا بھی ہے۔ جیسے جیسے لیگ کی عالمی مالیت بڑھ رہی ہے، بی سی سی آئی جانتا ہے کہ اسپانسرز اور عالمی براڈکاسٹرز ایسے کسی بھی تنازع کو پسند نہیں کریں گے جو کھیل پر حاوی ہو جائے۔
تمام دس ٹیموں کو نئے ضابطہ اخلاق (SOPs) جاری کر دیے گئے ہیں۔ بی سی سی آئی نے واضح کر دیا ہے کہ اگر 2025 کے سیزن کے آغاز تک رویوں میں تبدیلی نہ آئی، تو وہ بڑے ناموں کے خلاف تادیبی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
