آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے، جس سے ملک کے نئے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ یہ رقم پاکستان کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوگی، تاہم فنڈ کی قیادت نے ملکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
یہ منظوری توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت پہلے جائزے کی تکمیل کے بعد دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسی حکومت کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے جو بھاری قرضوں کے بوجھ اور مہنگائی کی اس لہر سے نبردآزما ہے جس نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
تاہم، آئی ایم ایف بورڈ نے ملکی معیشت کے لیے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو پاکستان کی معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں جنگ کی صورتحال مزید بگڑی تو اس کے نتیجے میں تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا ادائیگیوں کا توازن دوبارہ بگڑ سکتا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران واشنگٹن میں حکومتی معاشی نظم و ضبط اور ٹیکس اصلاحات پر زور دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اب درست سمت میں گامزن ہیں، حالانکہ ان اصلاحات کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیویز کا بوجھ براہِ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کا رویہ طویل مدتی معاشی اہداف کے حوالے سے اب بھی محتاط ہے۔ بند کمرہ اجلاسوں میں بورڈ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے پاس مالی گنجائش انتہائی محدود ہے۔ فنڈ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ وقتی اقدامات کے بجائے توانائی کے شعبے کے بنیادی مسائل، خاص طور پر گردشی قرضوں کے خاتمے پر توجہ دے اور ریٹیل اور زراعت جیسے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے۔
فی الحال ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی یہ قسط روپے کی قدر کو سہارا دے گی اور ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ لیکن آئی ایم ایف کی جانب سے دی گئی وارننگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی معاشی قسمت کا انحصار نہ صرف ملکی پالیسیوں پر ہے بلکہ ایک ایسے غیر یقینی جغرافیائی سیاسی منظرنامے پر بھی ہے جس پر اسلام آباد کا کوئی اختیار نہیں۔
