کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے پر کام کرنے والی مشینری نے منگل کی صبح ایک مرکزی گیس پائپ لائن کو بری طرح نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں شہر کے گنجان آباد علاقوں میں گیس کی فراہمی معطل ہو گئی۔ یونیورسٹی روڈ کے قریب ہونے والے اس واقعے نے گلشن اقبال، ابوالحسن اصفہانی روڈ اور گلستانِ جوہر کے رہائشیوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی ٹیمیں واقعے کے فوراً بعد پہنچ گئیں، تاہم گیس کے شدید اخراج کے باعث کسی بڑے حادثے سے بچنے کے لیے مرکزی وال بند کرنا پڑا۔ صبح 10 بجے کے بعد سے ہی صارفین کو گیس کے شدید بحران کا سامنا ہے، جس سے گھریلو امور اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔
ریڈ لائن منصوبے کے دوران یوٹیلیٹی لائنوں کو نقصان پہنچنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ کنٹریکٹرز اور یوٹیلیٹی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان زیرِ زمین لائنوں کے درست نقشے نہ ہونے پر طویل عرصے سے تنازع چل رہا ہے۔ کھدائی کے دوران اکثر ایسی غلطیاں سامنے آتی ہیں جو شہریوں کے لیے دردِ سر بن جاتی ہیں۔
ایس ایس جی سی کے ترجمان نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ایک بڑی دراڑ ہے، محض عارضی مرمت کافی نہیں ہوگی۔ ہماری اولین ترجیح علاقے کو محفوظ بنانا ہے، جس کے بعد ہی گیس بحالی کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔”
شہریوں کے لیے یہ صورتحال خاصی تکلیف دہ ہے۔ صبح کے اوقات میں جب گھروں میں ناشتہ تیار ہو رہا تھا، گیس اچانک غائب ہو گئی۔ مقامی ہوٹل مالکان اور کھانے پینے کا کام کرنے والے چھوٹے تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ گیس بحالی کا کوئی حتمی وقت بھی نہیں دیا گیا ہے۔
ریڈ لائن انتظامیہ نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ معافی نہیں مانگی، بلکہ شہر کے نیچے موجود "پرانی اور غیر واضح یوٹیلیٹی لائنوں کے جال” کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
