پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کے بیرونِ ملک سیاسی پناہ لینے کی اطلاعات کے بعد ان کا دفاع شروع کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت نے اس اقدام کو ذاتی فرار کے بجائے ریاستی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا منطقی نتیجہ قرار دیا ہے۔
اقبال آفریدی کے صاحبزادے کی بیرونِ ملک روانگی اور سیاسی پناہ کی درخواست نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ تحریک انصاف کا موقف ہے کہ یہ سب کچھ موجودہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں کے خاندانوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کا شاخسانہ ہے۔
اسلام آباد میں پارٹی کے ایک سینئر ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب آپ کسی کے گھر، روزگار اور بچوں کو ہدف بنائیں گے تو آپ انہیں کہیں اور جانے کا راستہ نہیں چھوڑتے۔” پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے مسلسل قانونی شکنجے اور نگرانی کے باعث کئی کارکنان اور ان کے اہل خانہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، تحریک انصاف کے ناقدین اس صورتحال کو ایک مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس پارٹی نے ‘نئے پاکستان’ اور حب الوطنی کے نعرے پر سیاست کی، اسی کے اہم رہنما کے اہل خانہ کا مغربی ممالک میں سیاسی پناہ تلاش کرنا پارٹی کے بیانیے پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کے وزراء کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما عوام کو تو قربانیاں دینے کا درس دیتے ہیں، لیکن خود اپنے لیے بیرونِ ملک راستہ ہموار کر لیتے ہیں۔
حکومتی حلقوں نے اس سیاسی پناہ کی درخواست کو "ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ وزارت اطلاعات کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ صرف بیرونِ ملک قانونی حیثیت حاصل کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومتی ترجمانوں کے مطابق "ظلم” کا بیانیہ صرف عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے گھڑا گیا ہے، جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی کے خاندان مشکلات میں گھرے نظر آئے ہیں۔ نو مئی کے واقعات کے بعد سے پارٹی نے کئی انخلا دیکھے ہیں اور متعدد رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے کے لیے ہراساں کیا گیا یا حراست میں لیا گیا۔
سیاسی پناہ کا یہ معاملہ اب شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ آیا یہ کیس واقعی انسانی حقوق کے بحران کا نتیجہ ہے یا پھر ملک سے نکلنے کا ایک آسان ذریعہ، یہ سوال فی الحال جواب طلب ہے۔
تحریک انصاف کے لیے یہ واقعہ موجودہ حکومت کے خلاف اپنے بیانیے کو مزید تقویت دینے کا ایک موقع ہے، جبکہ حکومتی حلقے اسے اپنے مخالفین کو عوام کی نظروں میں گرانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ سیاسی کشیدگی کے اس ماحول میں آفریدی خاندان کا یہ معاملہ اب قومی بیانیے کی جنگ کا ایک نیا محاذ بن چکا ہے۔
