مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے تقریباً دو سال کی معطلی کے بعد کان کنی کی لیز جاری کرنے کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، رکے ہوئے منصوبے دوبارہ چل سکیں گے اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
سرکاری بیان کے مطابق آزاد کشمیر میں کان کنی کی لیز کا اجرا مارچ 2024 سے معطل تھا۔ بعد ازاں یہ معاملہ جولائی 2025 میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل — ایس آئی ایف سی کے فورم پر اٹھایا گیا، جہاں پالیسی سطح پر مداخلت کے بعد پابندیاں ختم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔
حکومت کے اس اقدام کو آزاد کشمیر کی معدنی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پابندی کے دوران نئی کان کنی لیز، مائننگ پرمٹس، ایکسپلوریشن پرمٹس اور موجودہ اجازت ناموں کی تجدید یا توسیع جیسے معاملات رکے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے کئی سرمایہ کار، ٹھیکیدار اور مقامی کاروباری حلقے غیر یقینی صورت حال کا شکار رہے۔
اس سے قبل آزاد کشمیر حکومت نے 22 مارچ 2024 کو جاری ہونے والا وہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا تھا جس کے تحت مختلف اقسام کی لیز اور اجازت ناموں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ آزاد کشمیر کابینہ کے 28 جنوری 2026 کے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔
پابندی صرف کان کنی تک محدود نہیں تھی۔ اس میں سرکاری اراضی، خصوصاً خالصہ سرکار اراضی کی لیز، پہلے سے لیز شدہ زمین کی توسیع، سیاحت سے متعلق بعض لیزز اور جنگلاتی مصنوعات سے جڑے معاملات بھی شامل تھے۔ اس وسیع پابندی نے کئی شعبوں میں کام کی رفتار کم کر دی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ لیز کے اجرا کی بحالی سے معدنی وسائل کی تلاش اور نکاسی میں تیزی آئے گی۔ حکومت کو امید ہے کہ اس فیصلے سے مقامی اور بیرونی سرمایہ کار آزاد کشمیر کے معدنی شعبے میں دلچسپی لیں گے، جس سے علاقے کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
تاہم اصل امتحان اب عمل درآمد کا ہے۔ آزاد کشمیر جیسے پہاڑی خطے میں کان کنی کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ، شفاف لیزنگ، مقامی آبادی کے حقوق اور آمدنی کی منصفانہ تقسیم جیسے سوالات بھی جڑے ہیں۔ سرمایہ کار اس فیصلے کو خوش آئند سمجھ سکتے ہیں، لیکن مقامی لوگ اسے اسی وقت کامیاب قرار دیں گے جب اس کے نتیجے میں روزگار، بنیادی سہولتیں اور ماحول کے تحفظ کی ضمانت بھی ملے۔
فی الحال حکومت کا پیغام واضح ہے: آزاد کشمیر کا معدنی شعبہ دوبارہ کھل چکا ہے۔ تقریباً دو سال کی بندش کے بعد اب کمپنیوں کو لیز اور اجازت ناموں کے لیے درخواست دینے کا موقع ملے گا، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ خطے کی معدنی دولت کاغذی فائلوں کے بجائے عملی معاشی فائدے میں تبدیل ہو۔
