بیجنگ، 19 مئی — روسی صدر ولادیمیر پیوٹن منگل کو چین پہنچے، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے کا بنیادی پیغام صاف ہے: چین نے اگر چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پُرتپاک استقبال کیا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات کمزور پڑ رہے ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب چین ایک طرف امریکا کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے، اور دوسری طرف روس کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ عالمی سطح پر اس ملاقات کو اسی لیے خاص توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
کریملن نے پیوٹن کے دو روزہ دورے سے “سنجیدہ توقعات” وابستہ کی ہیں۔ روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق دونوں ملک اقتصادی معاملات، توانائی کے تعاون اور ممکنہ طور پر پاور آف سائبیریا 2 گیس پائپ لائن پر بات کریں گے۔ یہ مجوزہ منصوبہ روسی گیس کو منگولیا کے راستے چین تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کے ذریعے سالانہ 50 ارب مکعب میٹر تک گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔
پیوٹن کے لیے یہ دورہ صرف سفارتی روایت نہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں نے روس کو عالمی سطح پر دباؤ میں ڈالا، اور ایسے میں چین ماسکو کے لیے ایک اہم معاشی سہارا بن کر سامنے آیا۔ بیجنگ نے روس کو مہلک ہتھیار فراہم کرنے کی تردید کی ہے، مگر روسی توانائی کی خریداری اور سفارتی حمایت نے ماسکو کو کافی حد تک سہارا دیا ہے۔
چین کی پوزیشن ذرا پیچیدہ ہے۔ بیجنگ امریکا کے ساتھ تجارت اور عالمی منڈیوں کے حوالے سے استحکام چاہتا ہے، مگر روس کو بھی مغربی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی حکام روس کے ساتھ تعلقات کو اکثر “ہمہ موسمی” شراکت داری قرار دیتے ہیں۔
دورے سے قبل ایک ویڈیو خطاب میں پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین قومی خودمختاری اور وحدت جیسے معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ملکوں کے تعلقات باہمی اعتماد کی “غیر معمولی سطح” تک پہنچ چکے ہیں۔
بات چیت میں توانائی کا معاملہ نمایاں رہنے کا امکان ہے۔ روس یورپی منڈیوں میں کمی کے بعد چین کو زیادہ گیس فروخت کرنا چاہتا ہے۔ چین کو بھی قابل اعتماد توانائی ذرائع درکار ہیں، لیکن وہ قیمت، شرائط اور انحصار کے معاملے پر محتاط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاور آف سائبیریا 2 پائپ لائن پر برسوں سے بات چیت جاری ہے، مگر حتمی پیش رفت ابھی تک نہیں ہو سکی۔
یہ دورہ تاریخی پہلو بھی رکھتا ہے۔ دونوں ممالک 2001 کے چین روس معاہدۂ دوستی کی 25ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔ اس معاہدے نے دونوں ملکوں کے موجودہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی بنیاد مضبوط کی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق چین اب روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور روسی تیل و گیس کا اہم خریدار بھی ہے۔
اس کے باوجود چین محتاط ہے۔ بیجنگ نہیں چاہتا کہ وہ یوکرین جنگ میں اس حد تک ملوث نظر آئے کہ اسے مزید امریکی یا یورپی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ چین خود کو اس جنگ میں غیر جانبدار کہتا ہے، مگر مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ چینی تجارت اور ٹیکنالوجی نے روسی جنگی معیشت کو سہارا دیا ہے۔
پیوٹن کا یہ دورہ اسی لیے اہم ہے۔ یہ صرف ایک رسمی ملاقات نہیں، بلکہ واشنگٹن، یورپ اور باقی دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ روس اور چین اپنے تعلقات کو مضبوط، پائیدار اور دباؤ سے آزاد دکھانا چاہتے ہیں۔
شی جن پنگ کے لیے ٹرمپ اور پیوٹن کی یکے بعد دیگرے میزبانی چین کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو نمایاں کرتی ہے۔ پیوٹن کے لیے پیغام اور بھی سادہ ہے: وہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ روس تنہا نہیں۔
اور بیجنگ میں شی جن پنگ کے ساتھ کھڑے ہونا، اس پیغام کا سب سے واضح طریقہ ہے۔
