کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل، 31 مارچ 2026 کو شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود خریداری کا رجحان واپس آیا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,900.34 پوائنٹس، یعنی 1.29 فیصد اضافے کے ساتھ 148,743.31 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایک روز پہلے مارکیٹ میں بھاری فروخت دیکھی گئی تھی، اس لیے یہ بحالی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
مارکیٹ نے دن کا آغاز کمزور انداز میں کیا، اور ابتدائی کاروبار میں انڈیکس 147,743.67 کی سطح تک گر گیا۔ بعد ازاں خریدار متحرک ہوئے تو انڈیکس دن کے دوران 150,225.63 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک بھی پہنچا، تاہم آخر میں کچھ منافع خوری کے باعث بندش اس سے نیچے ہوئی۔ اس سارے منظر نے واضح کیا کہ خریداری واپس تو آئی ہے، مگر بے یقینی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
مارکیٹ حلقوں کے مطابق ایک دن پہلے کی تیز گراوٹ کے بعد سرمایہ کاروں نے نسبتاً کم قیمتوں پر حصص خریدنے میں دلچسپی دکھائی۔ خریداری کا رجحان خاص طور پر بڑے اور نمایاں شعبوں میں دیکھا گیا، جن میں بینکنگ، سیمنٹ، آٹو اسمبلرز، پاور، ریفائنری، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں شامل تھیں۔ رپورٹوں کے مطابق نیشنل بینک، میزان بینک، لکی سیمنٹ، او جی ڈی سی ایل، ماری انرجیز، حبیب بینک اور حب پاور جیسے بڑے حصص نے انڈیکس کو سہارا دیا۔
تجزیہ کاروں نے اس بحالی کو صرف مقامی خریداری تک محدود نہیں رکھا بلکہ بیرونی عوامل کو بھی اہم قرار دیا۔ بعض مارکیٹ رپورٹوں میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں ممکنہ نرمی کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کے اعصاب کو کچھ حد تک سنبھالا، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں رسک لینے کا رجحان بہتر ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ پیر کی دباؤ والی فضا کے بعد منگل کو مارکیٹ نے نسبتاً مضبوط واپسی دکھائی۔
کاروباری حجم بھی نمایاں رہا، اگرچہ یہ پچھلے سیشن سے کچھ کم تھا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 434.958 ملین شیئرز کا لین دین ہوا جبکہ کاروباری مالیت 22.541 ارب روپے رہی۔ مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 281 کے بھاؤ بڑھے، 137 میں کمی آئی اور 61 بغیر تبدیلی کے بند ہوئیں۔
حجم کے اعتبار سے کے-الیکٹرک سرفہرست رہی، جبکہ دیگر سرگرم شیئرز میں دوست اسٹیلز اور ورلڈکال ٹیلی کام شامل تھے۔ یہ اشارہ اس بات کا بھی تھا کہ بحالی صرف چند بڑے حصص تک محدود نہیں تھی بلکہ مارکیٹ کے مختلف حصوں میں سرگرمی دیکھی گئی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک روز کی مضبوط واپسی کو مکمل استحکام قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق منافع خوری، عالمی جغرافیائی سیاسی خدشات، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اور آئندہ معاشی اشاریے مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ شدید دباؤ کے بعد پی ایس ایکس نے سنبھلنے کی کوشش کی ہے، اور خریداری کی واپسی نے سرمایہ کاروں کو کچھ ریلیف دیا ہے۔
