کراچی: کراچی کے بہت سے شہریوں، خاص طور پر ڈی ایچ اے، کلفٹن اور سی ویو کے رہائشیوں کے لیے “وائٹ کرولا گینگ” آج بھی ایک خوفناک یاد ہے۔ یہ صرف ایک گاڑی کا نام نہیں تھا۔ اصل خوف اس لمحے کا تھا جب رات کے وقت کوئی سفید ٹویوٹا کرولا آہستہ آہستہ قریب آتی دکھائی دیتی تھی۔
یہ معاملہ 2008 اور 2009 میں سامنے آیا، جب پولیس نے محمد علی ہجانو اور اس کے ساتھی عمیر خان پر الزام لگایا کہ وہ کرائے کی سفید کرولا گاڑیاں استعمال کرتے تھے، جن کی نمبر پلیٹس اکثر تبدیل کی جاتی تھیں، اور کراچی کے پوش علاقوں میں وارداتیں کرتے تھے۔
اس کیس کو خوفناک بنانے والی بات صرف وارداتوں کی تعداد نہیں تھی بلکہ ان کی نوعیت بھی تھی۔ مختلف رپورٹس میں اس گروہ کو ڈکیتیوں، زیادتی کے الزامات، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین جرائم سے منسلک کیا گیا۔ ملزمان کے خلاف درجنوں مقدمات درج کیے گئے، جن میں زیادتی اور لوٹ مار کے الزامات بھی شامل تھے۔
خوف اس لیے تیزی سے پھیلا کیونکہ وارداتیں کسی ویران یا دور دراز علاقے میں نہیں ہو رہی تھیں۔ یہ واقعات ڈی ایچ اے، کلفٹن، سی ویو اور ان سڑکوں پر ہو رہے تھے جہاں خاندان، نوجوان اور جوڑے عام طور پر شام یا رات کو نکلتے تھے۔ جن علاقوں کو نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا تھا، وہی اچانک خوف کی علامت بن گئے۔
پولیس نے بالآخر 2009 میں ہجانو اور عمیر خان کو گرفتار کیا۔ ملزمان کے خلاف کراچی کے ساؤتھ زون کے مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج تھے۔ بعد کی عدالتی کارروائی سے معلوم ہوا کہ کئی مقدمات میں کارروائی طویل عرصے تک جاری رہی، جبکہ کچھ مقدمات میں سزائیں اور کچھ میں بریت بھی ہوئی۔
عدالتی سفر بھی سیدھا نہیں تھا۔ جولائی 2015 میں ایک سیشن عدالت نے ہجانو اور عمیر خان کو ڈی ایچ اے میں دو گھروں میں ڈکیتی کے مقدمات میں 15 سال قید کی سزا سنائی۔ دونوں پر 25 ہزار روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ عدالتی حکام کے مطابق ملزمان کو تقریباً نصف مقدمات میں بری کیا جا چکا تھا، جبکہ ایک درجن سے زائد مقدمات اس وقت زیرِ سماعت تھے۔
چند دن بعد کیس میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی۔ ایک سیشن عدالت نے تین ڈکیتی مقدمات میں دونوں ملزمان کو مجموعی طور پر 45 سال قید کی سزا سنائی۔ الگ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ محمد علی ہجانو اور عمیر خان کو زیادتی سے متعلق مقدمات میں سزا سنائی گئی اور ان پر 75 ہزار روپے فی کس جرمانہ عائد کیا گیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کچھ مقدمات میں ملزمان بری بھی ہوئے۔ 2016 میں ہجانو اور عمیر خان کو سی ویو پر ایک جوڑے سے ڈکیتی کے مقدمے میں بری کر دیا گیا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ پرانے، حساس اور شواہد پر منحصر مقدمات کو عدالت میں ثابت کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب متاثرین اور گواہوں کے لیے بار بار پیش ہونا آسان نہ ہو۔
پھر اکتوبر 2025 میں اس کیس کا نام دوبارہ خبروں میں آیا۔ پولیس نے محمد علی ہجانو کو گلستانِ جوہر میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر لوٹنے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کیا۔ پولیس نے تصدیق کی کہ ہجانو ماضی میں گرفتار اور سزا یافتہ رہ چکا تھا، تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ وہ ضمانت پر رہا ہوا، کسی مقدمے میں بری ہوا یا سزا مکمل کرنے کے بعد باہر آیا۔
وقت کے ساتھ “وائٹ کرولا گینگ” صرف ایک مخصوص کیس کا نام نہیں رہا۔ یہ کراچی میں ایک جرائم کی علامت بن گیا۔ جب بھی کوئی گروہ اسی طرز کی گاڑی یا طریقہ واردات استعمال کرتا، یہی نام پھر سامنے آ جاتا۔ بعد کے برسوں میں سفید کرولا استعمال کرنے والے دیگر مبینہ گروہوں کو بھی گھروں میں ڈکیتیوں، پرتشدد واقعات اور شہر کے مختلف علاقوں میں لوٹ مار کی کوششوں سے جوڑا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ یہ کہانی آج بھی کراچی کے اجتماعی حافظے میں موجود ہے۔ یہ صرف دو ملزمان اور ایک گاڑی کی کہانی نہیں تھی۔ اس نے دکھایا کہ ایک شہر میں خوف کتنی تیزی سے پھیلتا ہے، جب جرائم پیشہ افراد ایک طریقہ اختیار کرتے ہیں، اسے دہراتے ہیں، اور روزمرہ کی ایک عام چیز کو دہشت کی علامت بنا دیتے ہیں۔
کراچی کی سڑکوں پر سفید کرولا کبھی صرف ایک عام گاڑی تھی۔
پھر ایک وقت آیا جب وہ خوف کا دوسرا نام بن گئی۔
