اسلام آباد: پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی نجکاری کے پہلے اختتامی مرحلے کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری منظوری دے دی ہے، جس کے بعد قومی ایئر لائن کی نجکاری کا عمل ایک اور اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
وزارتِ نجکاری کے بیان کے مطابق بورڈ کا 252 واں اجلاس بدھ کو وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں پی آئی اے سی ایل کی نجکاری سے متعلق پہلے اختتامی مرحلے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ مالیاتی مشیر نے بورڈ کو شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ کے تحت طے شدہ شرائط کی تکمیل پر بریفنگ دی، جن میں ریگولیٹری، مالی اور ٹرانزیکشن سے متعلق تقاضے شامل ہیں۔
بورڈ نے اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور وہ منظوری دے دی جس کی بنیاد پر پہلے اختتامی مرحلے کو مکمل کرنے کا راستہ ہموار ہو سکے گا۔ سادہ الفاظ میں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایئر لائن کا کنٹرول فوری طور پر منتقل ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہ حکومت اور خریدار اب معاہدے کی اُن آخری شرائط کی طرف بڑھ رہے ہیں جن کے بعد ٹرانزیکشن باضابطہ طور پر اگلے مرحلے میں داخل ہو گی۔
پی آئی اے کی نجکاری کا یہ عمل اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا تھا جب عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں ایک کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی بولی دی۔ یہ بولی حکومت کی مقررہ ریفرنس قیمت 100 ارب روپے سے زیادہ تھی، جبکہ حکومت 25 فیصد حصہ اپنے پاس رکھنے کی پوزیشن میں ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس معاہدے میں 10 ارب روپے کی ابتدائی نقد ادائیگی بھی شامل ہے، جبکہ باقی سرمایہ کاری پی آئی اے کے استحکام اور کاروباری بہتری کے لیے استعمال ہونے کی توقع ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کا بوجھ کم کرنے کے لیے نجکاری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ پی آئی اے کئی برسوں تک مالی خسارے، قرضوں، انتظامی مسائل اور آپریشنل کمزوریوں کا شکار رہی ہے۔ تاہم حالیہ عرصے میں حکومت نے ایئر لائن کی مالی حالت بہتر دکھانے کے لیے اس کے بڑے حصے کے پرانے واجبات الگ کیے، غیر منافع بخش روٹس پر نظرثانی کی اور اخراجات کم کرنے کی کوشش کی۔ رائٹرز کے مطابق پی آئی اے نے 2024 میں دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد سالانہ منافع بھی رپورٹ کیا تھا، جسے نجکاری سے پہلے ایک اہم موڑ سمجھا گیا۔
پی آئی اے کی تنظیمِ نو کے تحت حکومت نے پہلے ایئر لائن کے قانونی اور مالی ڈھانچے کو الگ کیا۔ وزارتِ نجکاری کے مطابق اپریل 2024 میں شیئر ہولڈرز اور کریڈیٹرز نے اسکیم آف ارینجمنٹ کی منظوری دی تھی، جبکہ اس سے قبل وفاقی کابینہ پی آئی اے سی ایل کی قانونی علیحدگی اور ری اسٹرکچرنگ پلان کی منظوری دے چکی تھی۔
حکومت اس ٹرانزیکشن کو صرف ایک ادارے کی فروخت نہیں بلکہ وسیع معاشی اصلاحات کا حصہ قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف، عام مسافروں کے لیے اصل سوال اب بھی وہی ہے: کیا نجکاری کے بعد پی آئی اے کی پروازیں وقت پر چلیں گی؟ کیا سروس بہتر ہو گی؟ کیا اندرونِ ملک اور بین الاقوامی روٹس پر ایئر لائن دوبارہ اپنا اعتماد بحال کر سکے گی؟
کاغذی کارروائی اسلام آباد میں مکمل ہو رہی ہے، مگر اصل امتحان ایئرپورٹس، بکنگ کاؤنٹرز اور پروازوں میں ہو گا۔ اگر نئے مالکان انتظامی نظم، سرمایہ کاری، بیڑے کی بہتری اور مسافروں کے اعتماد پر سنجیدگی سے کام کرتے ہیں تو پی آئی اے کے لیے واپسی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ لیکن اگر پرانی کمزوریاں اسی طرح برقرار رہیں، تو نجکاری بھی صرف ایک اور سرکاری فائل بن کر رہ جائے گی۔
