MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
کاروبار اور تجارت

بھارت۔یو اے ای اسٹریٹجک قربت، پاکستان کے لیے نئی سفارتی آزمائش

Last updated: مئی 21, 2026 12:26 صبح
Yamna Shahid
Share
بھارت۔یو اے ای اسٹریٹجک قربت، پاکستان کے لیے نئی سفارتی آزمائش
بھارت۔یو اے ای اسٹریٹجک قربت، پاکستان کے لیے نئی سفارتی آزمائش
SHARE

اسلام آباد: بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاع، توانائی اور بحری سلامتی کے شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون پاکستان میں تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد کے نزدیک یہ پیش رفت خلیجی خطے میں پاکستان کی روایتی سفارتی، معاشی اور جغرافیائی گنجائش کو محدود کر سکتی ہے۔

یہ تشویش اس وقت زیادہ نمایاں ہوئی جب بھارت اور یو اے ای نے دفاعی تعاون، فوجی تربیت، توانائی ذخیرہ کرنے، ایل این جی، ایل پی جی اور بحری سلامتی سے متعلق تعلقات کو مزید آگے بڑھایا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ یو اے ای کے دوران دونوں ممالک نے دفاعی شراکت داری کے فریم ورک اور توانائی کے شعبے میں کئی معاہدوں کو آگے بڑھایا، جن میں ابوظبی کی سرکاری کمپنی ADNOC کی جانب سے بھارت میں خام تیل کے ذخائر بڑھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض بھارت اور یو اے ای کے دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں۔ خلیجی خطہ برسوں سے پاکستان کی خارجہ پالیسی، معاشی استحکام اور سیکیورٹی حکمت عملی کا اہم ستون رہا ہے۔ لاکھوں پاکستانی کارکن سعودی عرب، یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں۔ انہی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کے لیے زندگی کی لکیر سمجھی جاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں بھارت کی بڑھتی ہوئی خلیجی موجودگی کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔

ایک پاکستانی سفارتی ذریعے کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بھارت یو اے ای کے قریب ہو رہا ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اب اپنے معاشی اور دفاعی شراکت داروں کا دائرہ وسیع کر رہی ہیں۔ ذریعے نے کہا کہ پاکستان کو اپنے خلیجی تعلقات کو صرف جذباتی یا تاریخی بنیادوں پر نہیں، بلکہ عملی معاشی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر مضبوط بنانا ہوگا۔

بھارت اور یو اے ای کے درمیان دفاعی تعاون تیزی سے ادارہ جاتی شکل اختیار کر رہا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ دفاعی کمیٹی کے ذریعے عسکری روابط کو آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں مشترکہ فوجی مشقیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ بھارتی اور اماراتی افواج نے ’’ڈیزرٹ سائیکلون‘‘ کے نام سے مشترکہ مشقیں کیں، جن کا مقصد زمینی افواج کے درمیان ہم آہنگی، آپریشنل تعاون اور پیشہ ورانہ روابط کو بہتر بنانا بتایا گیا۔

دوسری جانب توانائی کا شعبہ بھی اس شراکت داری کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ یو اے ای کی ADNOC کمپنی بھارت میں خام تیل، ایل این جی اور ایل پی جی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت میں اماراتی خام تیل کے ذخائر کو نمایاں حد تک بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت بھارت کو توانائی سلامتی کے شعبے میں خلیجی ممالک کے ساتھ مزید گہرائی سے جوڑ رہی ہے۔

پاکستان کے لیے یہی نکتہ حساس ہے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی طور پر گہرے رہے ہیں۔ پاکستانی محنت کشوں نے یو اے ای اور دیگر خلیجی ریاستوں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ دفاعی تعاون، عسکری تربیت، مذہبی قربت اور عوامی سطح کے روابط بھی اسلام آباد کے حق میں مضبوط عوامل رہے ہیں۔ مگر آج اثر و رسوخ صرف تاریخ یا جذبات سے نہیں بنتا۔ اب خلیجی ممالک ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، دفاعی صنعت، بندرگاہوں، لاجسٹکس اور فوڈ سیکیورٹی جیسے شعبوں میں شراکت دار تلاش کر رہے ہیں۔

بھارت نے خود کو اسی نئے خلیجی ایجنڈے کے مطابق پیش کیا ہے۔

بھارت کی بڑی منڈی، توانائی کی مسلسل طلب، بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت اور بحر ہند میں اس کا فعال کردار یو اے ای جیسے ملک کے لیے پرکشش ہیں۔ ابوظبی کے لیے بھارت صرف تیل خریدنے والا ملک نہیں رہا، بلکہ سرمایہ کاری، تجارت، دفاعی پیداوار اور علاقائی رابطوں کا بڑا شراکت دار بنتا جا رہا ہے۔

پاکستانی پالیسی حلقوں میں خدشہ ہے کہ اگر بھارت اور یو اے ای کے درمیان بحری تعاون مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات بحیرہ عرب اور بحر ہند کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یو اے ای خلیج اور بحر ہند کے اہم سمندری راستوں کے قریب واقع ہے۔ ایسے میں بھارت کی امارات کے ساتھ بحری قربت اسلام آباد کے لیے سفارتی اور سیکیورٹی دونوں حوالوں سے قابل توجہ ہے۔

اس کے باوجود پاکستان کے پاس مواقع ختم نہیں ہوئے۔

پاکستان اب بھی خلیجی ممالک کے لیے اہم سیکیورٹی پارٹنر ہے۔ اس کے پاس تربیت یافتہ فوجی افرادی قوت، وسیع تارکین وطن نیٹ ورک، مذہبی و ثقافتی قربت اور جغرافیائی اہمیت موجود ہے۔ خلیجی دارالحکومت بھی جانتے ہیں کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، ایران اور بحیرہ عرب کے سنگم پر واقع ایک اہم ملک ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پرانی اہمیت کو نئی شکل دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو صرف ترسیلات زر، ہنگامی مالی امداد یا تیل کی ادائیگیوں میں سہولت تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اسلام آباد کو سرمایہ کاری کے قابل منصوبے، ہنرمند افرادی قوت، آئی ٹی سروسز، زراعت، معدنیات، بندرگاہی رابطے اور صنعتی تعاون جیسے شعبوں میں ٹھوس پیشکش لے کر خلیج کے سامنے آنا ہوگا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے بار بار پیدا ہونے والے معاشی بحران اس کی سفارتی گنجائش کو کمزور کرتے ہیں۔ جب کوئی ملک مسلسل مالی مدد، قرض رول اوور یا ہنگامی ذخائر کا خواہش مند رہے تو اس کی بات چیت کی طاقت محدود ہو جاتی ہے۔ بھارت اس کے برعکس خلیجی ممالک کے سامنے بڑی منڈی، سرمایہ کاری کے مواقع اور طویل مدتی اقتصادی منصوبوں کے ساتھ آتا ہے۔

یہ فرق پاکستان کے لیے آسان نہیں، مگر اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

یو اے ای بظاہر کسی ایک ملک کو دوسرے پر ترجیح دینے کی پالیسی نہیں اپنا رہا۔ ابوظبی پاکستان سے تعلقات ختم نہیں کر رہا، نہ ہی بھارت کے ساتھ قربت کو لازمی طور پر پاکستان مخالف اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔ یو اے ای اپنی معیشت کو متنوع بنانے، دفاعی صلاحیت بڑھانے اور عالمی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی پالیسی پر چل رہا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اس بدلتی ہوئی حقیقت کو سمجھے۔

خلیج اب کسی ایک ملک کا یقینی اثر و رسوخ والا خطہ نہیں رہا۔ یہاں تعلقات سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، توانائی سلامتی اور قابل عمل منصوبوں کی بنیاد پر طے ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس اب بھی goodwill موجود ہے، مگر صرف خیر سگالی کافی نہیں۔

بھارت اور یو اے ای کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری اسلام آباد کے لیے ایک واضح پیغام ہے: خلیج میں جگہ برقرار رکھنی ہے تو پاکستان کو اپنی پالیسی تیز، عملی اور معاشی طور پر زیادہ قابل اعتماد بنانا ہوگی۔

 

 

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article حساس جلد کی دیکھ بھال کے لیے ماہرِ امراضِ جلد کا تعلیمی مرکز حساس جلد کی دیکھ بھال کے لیے ماہرِ امراضِ جلد کا تعلیمی مرکز
Next Article  تازہ پھل صحت مند زندگی کے لیے کیوں ضروری ہیں؟  تازہ پھل صحت مند زندگی کے لیے کیوں ضروری ہیں؟
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
امریکہ کے رات کے آسمان پر پراسرار ’فائر بال‘ کا نظارہ، شہری ششدر
امریکہ کے رات کے آسمان پر پراسرار ’فائر بال‘ کا نظارہ، شہری ششدر
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 17, 2026
کراچی میں گرمی اور حبس کا راج، شہر کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش کا امکان
کراچی میں گرمی اور حبس کا راج، شہر کے کچھ حصوں میں ہلکی بارش کا امکان
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 17, 2026
اسلام آباد ماڈل جیل کے لیے 2.1 ارب اور پاسپورٹ چھپائی کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 5 ارب روپے کی گرانٹ منظور
اسلام آباد ماڈل جیل کے لیے 2.1 ارب اور پاسپورٹ چھپائی کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 5 ارب روپے کی گرانٹ منظور
کاروبار اور تجارت
جون 17, 2026
مائیکروسافٹ نے نئے سرفیس پرو اور سرفیس لیپ ٹاپ لانچ کر دیے؛ اسنیپ ڈریگن X2 پروسیسر اور ریکارڈ بیٹری لائف کا اضافہ
مائیکروسافٹ نے نئے سرفیس پرو اور سرفیس لیپ ٹاپ لانچ کر دیے؛ اسنیپ ڈریگن X2 پروسیسر اور ریکارڈ بیٹری لائف کا اضافہ
Technology کاروبار اور تجارت
جون 17, 2026
ملائیشیا میں بڑی سہولت؛ یکم جولائی سے تمام اے ٹی ایم (ATM) سے رقم نکلوانا بالکل مفت کرنے کا اعلان
ملائیشیا میں بڑی سہولت؛ یکم جولائی سے تمام اے ٹی ایم (ATM) سے رقم نکلوانا بالکل مفت کرنے کا اعلان
کاروبار اور تجارت
جون 17, 2026
شاہی جوڑے کے مالیاتی بحران کی افواہیں؛ ہیری اور میگن کے ترجمان نے دیوالیہ پن کے دعووں کو جھوٹا قرار دے دیا
شاہی جوڑے کے مالیاتی بحران کی افواہیں؛ ہیری اور میگن کے ترجمان نے دیوالیہ پن کے دعووں کو جھوٹا قرار دے دیا
انٹرٹینمنٹ
جون 17, 2026

You Might Also Like

صدر زرداری کا دورۂ چین آج سے، تجارت، تعاون اور سی پیک پر بات چیت متوقع
کاروبار اور تجارت

صدر زرداری کا دورۂ چین آج سے، تجارت، تعاون اور سی پیک پر بات چیت متوقع

By Mabruka Khan
آبنائے ہرمز میں ایرانی تیز رفتار کشتیوں کے جتھوں نے جہاز رانی کے خطرات بڑھا دیے
کاروبار اور تجارت

آبنائے ہرمز میں ایرانی تیز رفتار کشتیوں کے جتھوں نے جہاز رانی کے خطرات بڑھا دیے

By Mabruka Khan
ایرانی ریال کی اوپن مارکیٹ میں مانگ برقرار، آج کا ریٹ بھی سامنے آگیا
pakistanکاروبار اور تجارت

ایرانی ریال کی اوپن مارکیٹ میں مانگ برقرار، آج کا ریٹ بھی سامنے آگیا

By Mabruka Khan
کاروبار اور تجارت

پاکستان میں آج چاندی کی قیمت — 29 اپریل 2026

By Ayan Ahmed
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?