یروشلم — اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کو غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے زیرِ حراست کارکنوں کا مذاق اڑانے پر اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں کارکنوں کو ہاتھ بندھے ہوئے گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا، جبکہ بن گویر انہیں دیکھتے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے نظر آئے۔
یہ کارکن گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے، جو غزہ کی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے اور امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسرائیلی فورسز نے فلوٹیلا کو راستے میں روک کر سیکڑوں کارکنوں کو حراست میں لیا۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 430 کارکن گرفتار کیے گئے، جن کا تعلق 40 ممالک سے تھا۔
بن گویر نے اس واقعے کی ویڈیو خود سوشل میڈیا پر جاری کی۔ انہوں نے کارکنوں کو “دہشت گردوں کے حامی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں واپس بھیجنے کے بجائے طویل عرصے تک جیل میں رکھا جانا چاہیے۔ مگر یہ اقدام اسرائیل کے لیے سفارتی طور پر الٹا پڑ گیا۔
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بن گویر کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا طرزِ عمل اسرائیل کی اقدار اور روایات کے مطابق نہیں۔ تاہم انہوں نے فلوٹیلا روکنے کے اسرائیلی حق کا دفاع کیا۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گدیون ساعر نے بھی کہا کہ ایسی ویڈیوز اسرائیل کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
یورپی کمیشن نے کارکنوں کے ساتھ کیے گئے سلوک کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ کینیڈا، جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک نے بھی اسرائیل سے وضاحت طلب کی یا اسرائیلی سفیروں کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے اسرائیلی حکام کے رویے کو “قابلِ نفرت” اور “ناقابلِ قبول” کہا۔ برطانوی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا کہ وہ ویڈیو دیکھ کر “واقعی خوفزدہ” ہوئیں اور لندن نے اسرائیلی حکومت سے باضابطہ وضاحت مانگی ہے۔
فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد غزہ میں انسانی بحران کی طرف توجہ دلانا اور محصور شہریوں تک امداد پہنچانا تھا۔ دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ غزہ کی بحری ناکہ بندی حماس تک ہتھیار پہنچنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ پابندیاں عام فلسطینی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔
حقوق کی تنظیم عدالہ نے الزام لگایا ہے کہ زیرِ حراست کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، بعض افراد زخمی ہوئے اور کئی کو تضحیک آمیز انداز میں رکھا گیا۔ اسرائیل نے کچھ سنگین الزامات کی تردید کی ہے، جن میں فلوٹیلا روکنے کے دوران براہِ راست فائرنگ کے دعوے بھی شامل ہیں۔
یہ تنازع نیتن یاہو حکومت کے لیے ایک اور مشکل لمحہ بن گیا ہے۔ غزہ جنگ، امدادی رسائی، شہری ہلاکتوں اور قیدیوں کے معاملے پر اسرائیل پہلے ہی عالمی دباؤ میں ہے۔ بن گویر کی ویڈیو نے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ تنقید صرف اسرائیل کے مخالفین کی طرف سے نہیں، بلکہ اس کے قریبی اتحادیوں کی طرف سے بھی سامنے آئی ہے۔
زیرِ حراست کارکنوں کو ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے، مگر ویڈیو کے اثرات جلد ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ بن گویر نے شاید اسے طاقت کا مظاہرہ سمجھ کر جاری کیا تھا، لیکن یہی ویڈیو اب اسرائیلی حکومت کے لیے ایک نئی سفارتی مشکل بن چکی ہے۔
