اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے غزہ جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا سے گرفتار کیے گئے تمام غیر ملکی کارکنان کو ملک بدر کر دیا ہے، یوں ایک ایسا تنازع وقتی طور پر بند ہوا ہے جس نے سفارتی سطح پر خاصی ہلچل مچائی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ملک بدر کیے گئے کارکنان کی تعداد 420 سے زائد تھی، جبکہ بعض رپورٹوں میں یہ تعداد 430 سے بھی زیادہ بتائی گئی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب زیرِ حراست کارکنان کی ایسی ویڈیوز وسیع پیمانے پر سامنے آئیں جن میں بعض افراد کو ہاتھ بندھے ہوئے اور گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا دکھایا گیا۔ انہی مناظر کے بعد برطانیہ، اٹلی، پرتگال، پولینڈ، یونان اور ترکی سمیت کئی ممالک نے احتجاج کیا یا اپنے شہریوں کے ساتھ سلوک پر اعتراض اٹھایا۔
اس معاملے نے خود اسرائیل کے اندر بھی سیاسی بے چینی پیدا کی۔ رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان ویڈیوز پر ناراضی ظاہر کی، جبکہ وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے بھی اس طرزِ عمل سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ صرف بین الاقوامی دباؤ تک محدود نہیں رہا بلکہ اسرائیلی حکومت کے اندر بھی اس کے اثرات محسوس کیے گئے۔
دوسری طرف کارکنان، حقوقِ انسانی کے گروپوں اور بعض غیر ملکی حکام نے الزام لگایا کہ حراست کے دوران جسمانی تشدد، نفسیاتی دباؤ، توہین آمیز برتاؤ، جبری برہنگی اور بعض خواتین کے حجاب زبردستی اتارنے جیسے واقعات پیش آئے۔ اسرائیلی حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے، اس لیے اس مرحلے پر یہی کہنا درست ہے کہ اصل تنازع اب اسرائیلی مؤقف اور کارکنان کے بیانات کے درمیان کھڑا ہے۔
فلوٹیلا مہم کا مقصد اسرائیل کی غزہ ناکہ بندی کو چیلنج کرنا اور غزہ کے انسانی بحران کی جانب دنیا کی توجہ دلانا بتایا گیا۔ اسرائیل اس طرح کی مہمات کو سکیورٹی مسئلہ اور سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیتا آیا ہے، جبکہ کارکنان اور حامی حلقے اسے انسانی امداد اور علامتی مزاحمت کی کوشش کہتے ہیں۔
اب فوری مرحلہ تو ختم ہو گیا ہے کیونکہ غیر ملکی کارکنان اسرائیل سے نکالے جا چکے ہیں، مگر اصل بحث ختم نہیں ہوئی۔ غزہ کی ناکہ بندی، بین الاقوامی کارکنان کے ساتھ سلوک، اور سمندر میں ایسی کارروائیوں کی قانونی و اخلاقی حیثیت پر سوالات پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ گئے ہیں۔
