بحرالکاہل میں ایک ممکنہ طاقتور ایل نینو بننے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، اور کئی ممالک کو پہلے ہی خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور غذائی بحران جیسے خطرات کے لیے تیاری شروع کریں۔
تازہ موسمیاتی پیش گوئی کے مطابق ایل نینو کے مئی سے جولائی 2026 کے دوران بننے کا امکان 82 فیصد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے دسمبر 2026 سے فروری 2027 تک جاری رہنے کا امکان 96 فیصد ہے، یعنی یہ نظام شمالی نصف کرے کے موسمِ سرما تک برقرار رہ سکتا ہے۔
یہ صرف موسم کی ایک معمولی پیش گوئی نہیں۔ ایل نینو دنیا کے کئی خطوں میں بارشوں اور درجہ حرارت کے معمولات بدل سکتا ہے۔ کہیں شدید بارشیں اور سیلاب آتے ہیں، کہیں خشک سالی بڑھتی ہے، فصلیں متاثر ہوتی ہیں، جنگلاتی آگ کا خطرہ بڑھتا ہے، اور پہلے سے گرم علاقوں میں گرمی مزید شدید ہو سکتی ہے۔
تشویش اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کہ ابتدائی اشارے ایک طاقتور واقعے کی طرف جا رہے ہیں۔ تازہ اندازوں کے مطابق نومبر 2026 سے جنوری 2027 کے دوران ایل نینو کے مضبوط یا بہت مضبوط ہونے کا مجموعی امکان تقریباً دو تہائی ہے۔ یہ حتمی اعلان نہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ آفات سے نمٹنے والے ادارے، کسان، آبی وسائل کے منتظمین اور توانائی کے شعبے ابھی سے محتاط ہو جائیں۔
عالمی موسمیاتی اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ 2026 کے وسط سے ایل نینو کے امکانات بڑھ رہے ہیں، جس کے اثرات عالمی درجہ حرارت اور بارشوں کے نظام پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسی پیش گوئیاں صرف سائنس دانوں کے لیے نہیں ہوتیں؛ ان کا مقصد حکومتوں کو وقت دینا ہے تاکہ وہ پہلے سے تیاری کر سکیں۔
ایل نینو بحرالکاہل کے گرم ہونے سے شروع ہوتا ہے، خاص طور پر اس کے وسطی اور مشرقی حصوں میں۔ جب سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے بڑھتا ہے تو ہوا کے دباؤ، بادلوں، بارشوں اور ہواؤں کا نظام بدلنے لگتا ہے۔ پھر اس کے اثرات صرف بحرالکاہل تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دنیا کے مختلف خطوں تک پھیل جاتے ہیں۔
بحرِ اوقیانوس کے سمندری طوفانوں کے لیے یہ صورتحال کچھ مختلف ہو سکتی ہے۔ متوقع ایل نینو کی وجہ سے 2026 کا اٹلانٹک ہریکین سیزن معمول سے کمزور رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس میں 8 سے 14 نامزد طوفان، 3 سے 6 ہریکین اور 1 سے 3 بڑے ہریکین بننے کا امکان ہے۔ ایل نینو عموماً اٹلانٹک میں ایسی ہوائیں پیدا کرتا ہے جو طوفانوں کو مضبوط ہونے سے پہلے ہی کمزور کر دیتی ہیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا محفوظ ہو گئی۔ ایک خطے میں طوفان کم ہو سکتے ہیں، تو دوسرے خطے میں سیلاب، خشک سالی یا شدید گرمی بڑھ سکتی ہے۔ یہی ایل نینو کی سب سے مشکل بات ہے: ایک ملک زیادہ بارش کے لیے تیاری کر رہا ہوتا ہے، جبکہ دوسرا ملک پانی کی کمی اور فصلوں کے نقصان سے ڈر رہا ہوتا ہے۔
زراعت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہے۔ چاول، گندم، مکئی، چینی، پام آئل اور دیگر اہم اجناس موسمی تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگر ایل نینو مضبوط ہوا تو ان ممالک میں خوراک کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جہاں کسان موسمی بارشوں پر انحصار کرتے ہیں۔
پانی کے محکمے بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خشک سالی والے علاقوں میں آبی ذخائر، آبپاشی اور پن بجلی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف سیلابی خطرات والے علاقوں میں نکاسی آب، حفاظتی بندوں اور وارننگ سسٹمز کو مضبوط کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
صحت کے شعبے پر بھی اثرات آ سکتے ہیں۔ شدید گرمی سے ہیٹ اسٹروک اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے، جبکہ سیلاب کے بعد آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریاں عام ہو سکتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں بارش اور درجہ حرارت کی تبدیلی مچھر سے پھیلنے والی بیماریوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
ابھی بھی کچھ غیر یقینی موجود ہے۔ آنے والے مہینوں میں سمندر اور فضا کے حالات بدل سکتے ہیں، اور ایل نینو کی حتمی شدت اسی پر منحصر ہوگی۔ مگر موجودہ اشارے اتنے مضبوط ہیں کہ کئی ممالک انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی تیاری شروع کر رہے ہیں۔
پیغام صاف ہے: ایل نینو ابھی مکمل طور پر نہیں آیا، مگر تیاری کا وقت شروع ہو چکا ہے۔
اگر یہ واقعی طاقتور ثابت ہوا تو جو ممالک پہلے سے تیار ہوں گے، وہ نقصان کو کافی حد تک کم کر سکیں گے۔
