اسلام آباد، 24 مئی 2026: وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “امن کے لیے غیر معمولی کوششوں” کو سراہا۔ یہ بیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطے کے بعد سامنے آیا جس میں سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کے نمائندے شریک تھے۔ پاکستان کی جانب سے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی اس رابطے میں حصہ لیا۔
وزیراعظم نے اس رابطے کو “انتہائی مفید اور نتیجہ خیز” قرار دیا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششیں ایسے وقت میں اہم ہیں جب ایران، آبنائے ہرمز اور خطے کی مجموعی سلامتی کے حوالے سے صورتحال بدستور حساس ہے۔
شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد خود کو ایک ایسے سفارتی پل کے طور پر پیش کر رہا ہے جو واشنگٹن، تہران اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن سے متعلق ایک مجوزہ مفاہمتی یادداشت بڑی حد تک طے پا چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ فریم ورک کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور وسیع تر علاقائی مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم معاہدہ ابھی حتمی نہیں ہوا، اور ایران سے منسلک میڈیا نے ٹرمپ کے بعض دعووں سے اختلاف بھی کیا ہے۔
آبنائے ہرمز اس بحران کا مرکزی نکتہ ہے کیونکہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے یہ راستہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کسی بھی رکاوٹ کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی فوری دباؤ پڑتا ہے۔
پاکستان نے اس معاملے میں مذاکرات کی حمایت کی ہے اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اسلام آباد اگلے مرحلے کے امن مذاکرات کی میزبانی “بہت جلد” کرنے کی امید رکھتا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے کی سلامتی، توانائی کا استحکام اور مسلم دنیا کی سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
اس کے باوجود آگے کا راستہ آسان نہیں۔ مجوزہ انتظامات میں جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے، ممکنہ پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام پر آئندہ مذاکرات جیسے حساس نکات شامل بتائے جا رہے ہیں۔ ان میں سے ہر معاملہ سیاسی طور پر نازک ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کی عوامی سطح پر حمایت کر رہا ہے، ساتھ ہی وہ اپنے سفارتی کردار کو بھی نمایاں کرنا چاہتا ہے۔ اب اصل امتحان آنے والے دنوں میں ہوگا: ایران کا باضابطہ ردعمل، امریکہ کی یقین دہانیاں، اور علاقائی ممالک کی یہ آمادگی کہ وہ مذاکرات کو ٹوٹنے نہ دیں۔
