اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فیملی کورٹ بیوی کی واضح اور رضاکارانہ رضامندی کے بغیر اس کے نکاح تحلیل کرنے کے مقدمے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی، خاص طور پر اس صورت میں جب خاتون کے مالی حقوق متاثر ہو رہے ہوں۔
عدالت عظمیٰ نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ اگر بیوی ظلم یا کسی اور قانونی بنیاد پر نکاح تحلیل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرے تو عدالت کو اس مقدمے کو عموماً خلع نہیں سمجھنا چاہیے، جب تک خاتون خود واضح طور پر خلع کا انتخاب نہ کرے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کا حصہ بننے والے جسٹس شاہد بلال نے تحریر کیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ خلع بیوی کے آزادانہ انتخاب پر مبنی حق ہے۔ اسے صرف اس بنیاد پر مسلط نہیں کیا جا سکتا کہ بیوی شوہر کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ خلع کی صورت میں مہر یا دیگر مالی دعوے متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ قانونی بنیادوں پر نکاح تحلیل کرانے کی صورت میں خاتون اپنے مالی حقوق کا مطالبہ جاری رکھ سکتی ہے۔
زیر سماعت مقدمے میں بیوی نے ظلم کی بنیاد پر نکاح تحلیل کرنے، 30 تولے سونا بطور مہر یا اس کی مارکیٹ ویلیو، اور نان نفقہ کا دعویٰ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جہاں قیمتی مالی حقوق وابستہ ہوں، وہاں بیوی کی رضامندی یا واضح انتخاب کے بغیر خلع نہیں دی جانی چاہیے۔
یہ فیصلہ اس پہلے سے موجود قانونی اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عدالتیں بیوی کے دعوے کو، جو مسلم میرجز تحلیل ایکٹ 1939 کے تحت دائر کیا گیا ہو، خود بخود خلع میں تبدیل نہیں کر سکتیں، جب تک بیوی کی طرف سے واضح اور غیر مبہم بیان موجود نہ ہو۔ ایک سابقہ فیصلے میں بھی سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ خلع بیوی کی رضاکارانہ اور واضح رضامندی پر مبنی قانونی راستہ ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ کئی خواتین ظلم، نان نفقہ نہ دینے، ترکِ تعلق یا شوہر کی دوسری شادی جیسے قانونی اسباب کی بنیاد پر نکاح تحلیل کرانے کے لیے عدالت جاتی ہیں۔ اگر ایسے مقدمات کو بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع میں تبدیل کر دیا جائے تو خاتون کو مہر یا دیگر مالی حقوق سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔
عدالت نے خلع اور نکاح کی قانونی تنسیخ کے درمیان واضح فرق بیان کیا۔ خلع بیوی کے اپنے فیصلے پر مبنی علیحدگی ہے، جبکہ نکاح کی تنسیخ مخصوص قانونی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ دونوں کو ملانے سے خاتون کا مقدمہ کمزور ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ ملک بھر کی فیملی کورٹس کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔ عدالتوں کو اب بیوی کے دعوے میں بیان کردہ قانونی بنیادوں کا جائزہ لینا ہوگا، بجائے اس کے کہ اس کی واضح رضامندی کے بغیر خلع کی ڈگری جاری کر دی جائے۔
خواتین کے لیے یہ فیصلہ اہم تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے قانونی انتخاب کا حق مضبوط ہوتا ہے بلکہ ان کے مالی حقوق بھی بغیر رضامندی ضائع ہونے سے بچتے ہیں۔
