واشنگٹن: پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر اس کا مؤقف بدستور مضبوط اور غیر متزلزل ہے، اور جب تک ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی کا امکان نہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ مؤقف دہرایا۔ ان کے یہ ریمارکس امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد سامنے آئے، ایسے وقت میں جب امریکہ کی جانب سے ابراہام اکارڈز کو مزید وسعت دینے کی کوششوں پر بحث جاری ہے۔
صحافیوں نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک پر ابراہام اکارڈز میں شامل ہونے کے لیے دباؤ کم کر دیا ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں ڈار نے براہ راست ٹرمپ کی تجویز پر تبصرہ کرنے کے بجائے فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے روایتی مؤقف کو دہرایا۔
انہوں نے کہا، "پاکستان فلسطین اور غزہ کے معاملے پر اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کسی بھی پالیسی پر غور اسی وقت ممکن ہوگا جب فلسطینی عوام کو ایک آزاد ریاست کا حق ملے گا۔
اس بیان نے اگرچہ پاکستان کی دیرینہ پالیسی کو ہی دہرايا، تاہم یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیوں اور نئے اتحادوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔
چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور اردن سمیت متعدد مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ابراہام اکارڈز میں شامل ہو کر اسرائیل کو تسلیم کریں۔ ان کا مؤقف تھا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم پاکستان کا ردعمل واضح اور دوٹوک رہا ہے۔
اسلام آباد بارہا اس بات کا اعادہ کر چکا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ دو ریاستی حل سے منسلک ہے، جس کے تحت 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فلسطین کے معاملے پر پاکستان میں غیر معمولی سیاسی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات کے باوجود فلسطینی عوام کی حمایت کے معاملے پر تقریباً تمام حلقے ایک ہی مؤقف رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ ابراہام اکارڈز 2020ء میں ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں سے طے پائے تھے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور بعد ازاں چند دیگر ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے۔ حامیوں نے ان معاہدوں کو خطے میں امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا، جبکہ ناقدین کے مطابق ان معاہدوں میں فلسطینی مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔
موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والی بات یہ ہے کہ ایک جانب واشنگٹن ایران سے متعلق سفارتی رابطوں میں مصروف ہے، جبکہ دوسری جانب غزہ کی جنگ نے مسلم دنیا میں شدید ردعمل پیدا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی مسلم ملک کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ سیاسی طور پر نہایت حساس تصور کیا جاتا ہے۔
اپنے دورۂ واشنگٹن کے دوران اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے خطے میں امن و استحکام اور ایران سے متعلق رابطوں میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔
مجموعی طور پر پاکستان کا پیغام واضح ہے: بدلتے علاقائی حالات، نئی سفارتی صف بندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود فلسطین کے مسئلے پر اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، اور اسرائیل سے متعلق پالیسی بدستور فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہے۔
