لبلبے کے کینسر میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک نئی اور امید افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ریولیوشن میڈیسنز (Revolution Medicines) کی جانب سے جاری کردہ کلینیکل ٹرائلز کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں
کہ ان کی تیار کردہ دوا ‘RMC-6236’ نے مریضوں کی اوسط بقا کی شرح کو موجودہ معیاری علاج کے مقابلے میں دوگنا کر دیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ مریضوں کی زندگی کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ یہ دوا، جو ایک ‘اورل RAS-ملٹی انہیبیٹر’ ہے، KRAS میوٹیشن کو نشانہ بناتی ہے۔
یہ پروٹین لبلبے کے کینسر (pancreatic ductal adenocarcinoma) کی تیزی سے بڑھوتری کا اہم ذمہ دار ہے، جسے اب تک طبی دنیا میں علاج کے لیے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ یہ دوا مذکورہ پروٹین کو غیر فعال حالت میں مقفل کر دیتی ہے، جس سے کینسر کے خلیات کی تقسیم کا عمل رک جاتا ہے۔ ٹرائل میں شامل مریضوں کے لیے یہ نتائج محض اعداد و شمار سے بڑھ کر ہیں۔ جن افراد کو یہ دوا دی گئی، انہوں نے کینسر سے منسلک تکلیف اور شدید تھکاوٹ میں واضح کمی محسوس کی۔
یہ بہتری کینسر کے علاج میں ایک نادر کامیابی ہے، کیونکہ اکثر جدید علاج کے دوران مریضوں کا آرام، زندگی کی بقا کے معمولی اضافے کے بدلے داؤ پر لگ جاتا ہے۔ اس ٹرائل کی مرکزی محقق ڈاکٹر ایلینا روسی کا کہنا ہے کہ "ہم صرف ٹیومر کی نشوونما میں تاخیر نہیں دیکھ رہے، بلکہ ایسے مریض دیکھ رہے ہیں جو اپنی روزمرہ کی معمولات کو پہلے سے کہیں زیادہ عرصے تک برقرار رکھنے کے قابل ہیں۔ یہی اس ٹرائل کی اصل کامیابی ہے۔
” یہ نتائج ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لبلبے کا کینسر اب بھی دنیا کے مہلک ترین امراض میں سے ایک ہے۔ دہائیوں سے اس کینسر کے مریضوں کی پانچ سالہ بقا کی شرح بہت کم رہی ہے۔ اگرچہ ‘FOLFIRINOX’ جیسے کیموتھراپی کے طریقے برسوں سے علاج کا حصہ رہے ہیں، لیکن ان کے ضمنی اثرات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ اکثر مریضوں کو علاج ادھورا چھوڑنا پڑتا ہے۔
ریولیوشن میڈیسنز اب اپنی اگلی بڑی آزمائش کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی فیز 3 کے کلینیکل ٹرائلز شروع کرنے والی ہے، جس سے یہ تعین ہوگا کہ آیا یہ نتائج مختلف پس منظر رکھنے والے مریضوں پر بھی یکساں اثر دکھاتے ہیں۔ ایف ڈی اے (FDA) سمیت دیگر ریگولیٹری ادارے اس دوا کے جائزے کے عمل کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، کیونکہ ایڈوانس اسٹیج کے مریضوں کے پاس فی الحال متبادل علاج نہ ہونے کے برابر ہے۔
اگر آئندہ ٹرائلز میں بھی بقا کی یہی شرح برقرار رہی تو یہ دوا اگلے سال تک علاج کا نیا معیار بن سکتی ہے۔ ان خاندانوں کے لیے جنہیں تشخیص کے بعد چند ماہ کی زندگی کی امید دی جاتی تھی، اب ایک ایسی گولی کی موجودگی جو کینسر کو روکے اور کیموتھراپی کے کرب سے بھی بچائے، ایک بڑی تبدیلی کی نوید ہے۔
