برسلز: یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی (EFSA) نے ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے 2026 کے موقع پر محفوظ خوراک کے فروغ کے لیے سائنسی تحقیق اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
اس سال ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کا موضوع "From Burden to Solutions – Safe Food Everywhere” رکھا گیا ہے، جس کا مقصد خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مؤثر اور عملی حل تلاش کرنا ہے۔
EFSA کے مطابق آلودہ اور غیر محفوظ خوراک ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 866 ملین بیماریوں اور 1.52 ملین اموات کا سبب بنتی ہے، جس سے لاکھوں افراد کی صحت، معیشت اور معیارِ زندگی متاثر ہوتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سائنسی شواہد اور درست اعداد و شمار محفوظ خوراک کی پالیسیوں اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
ادارے نے کہا کہ خوراک سے پھیلنے والی بیماریوں کا جائزہ صرف متاثرہ افراد کی تعداد سے نہیں لیا جانا چاہیے بلکہ بیماری کی شدت، طویل مدتی صحت کے اثرات اور معاشی نقصانات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ یہ طریقہ کار خطرات کی بہتر نشاندہی اور مؤثر روک تھام میں مدد دیتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) نے بھی اس موقع پر حکومتوں، خوراک کی صنعت، سائنس دانوں اور صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ محفوظ خوراک کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔
ماہرین کے مطابق خوراک کی حفاظت صرف حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ کسانوں، خوراک تیار کرنے والوں، تاجروں اور صارفین سمیت پوری سپلائی چین کا مشترکہ فریضہ ہے۔
