پاکستان نیوی کے سربراہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری اور قومی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ خوراک، پانی، معیشت اور قومی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندری سطح میں اضافہ، شدید موسمی واقعات اور ساحلی علاقوں کو لاحق خطرات فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔
نیول چیف نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی سمندری ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے نوجوانوں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی پر بھی زور دیا کہ وہ ماحول دوست سرگرمیوں کو فروغ دیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اجتماعی کردار ادا کریں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے باعث طویل المدتی منصوبہ بندی اور فوری عملی اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
