سن 2011 میں آنے والے توہوکو زلزلے نے نہ صرف زمین کو لرزایا بلکہ جاپان کی جغرافیائی پوزیشن کو بھی مستقل طور پر تبدیل کر دیا۔ اگرچہ سمندر میں آنے والی بڑی تباہی کی وجہ فالٹ لائن کا ٹوٹنا تھا، لیکن تازہ ترین سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ زمین کے مرکز (کور) سے ٹکرا کر واپس آنے والی لہروں نے جزائر جاپان کو مزید مشرق کی جانب دھکیلا۔
محققین نے زلزلے کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے دریافت کیا کہ زلزلے کی لہریں جو زمین کی گہرائی میں گئیں، بیرونی کور سے ٹکرا کر واپس سطح کی طرف آئیں، اور انہوں نے جاپانی جزائر پر ایک اضافی اور مستقل دباؤ ڈالا۔ یہ "کور سے منعکس” ہونے والی لہریں ایک آخری دھکے کی طرح ثابت ہوئیں جس نے زمین کے اس حصے کی نقل مکانی میں اضافہ کیا۔
برسوں تک ماہرینِ ارضیات کی توجہ صرف فالٹ لائن پر ہونے والی حرکت پر مرکوز رہی۔ یہ حرکت زلزلے کے اثرات کا بڑا حصہ تھی، لیکن جی پی ایس کے اعداد و شمار اور متوقع نقل مکانی کے درمیان ایک واضح فرق موجود تھا۔ یہ نئی تحقیق اس فرق کی وضاحت کرتی ہے۔
یہ عمل زمین کے اندرونی حصوں کی حرکیات کا سطح پر اثر انداز ہونے کا ایک نایاب مظہر ہے۔ جب زلزلے کی بنیادی لہریں باہر کی طرف پھیلیں تو توانائی کا ایک حصہ مینٹل کی گہرائی میں اتر گیا اور مائع لوہے اور نکل پر مشتمل بیرونی کور سے جا ٹکرایا۔ ان لہروں نے اتنی توانائی کے ساتھ سطح پر واپسی کی کہ انہوں نے شمالی جاپان کے پہلے سے غیر مستحکم زمینی بلاکس کو مزید متاثر کیا۔
تحقیقی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ "ہم ایک ایسے لہراتی اثر کو دیکھ رہے ہیں جو ہزاروں کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ زمین کا مرکز ایک آئینے کی طرح کام کر رہا تھا، جس نے توانائی کو عین اس لمحے سطح کی طرف پلٹایا جب زمینی پرت سب سے زیادہ غیر محفوظ تھی۔”
یہ انکشاف زلزلوں کی پیمائش کے روایتی ماڈل کو چیلنج کرتا ہے، جو زمین کے اندرونی حصے کو ایک ساکن پس منظر سمجھتا ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ زمین کا مرکز اس بات میں ایک فعال کردار ادا کرتا ہے کہ کوئی بڑا زلزلہ سطح پر کس طرح ظاہر ہوتا ہے۔
یہ تحقیق ٹیکٹونک پلیٹوں کے توانائی ذخیرہ کرنے اور اسے خارج کرنے کے عمل کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ کور سے منعکس ہونے والی لہروں کے ڈیٹا کو شامل کر کے، ماہرینِ ارضیات اب مستقبل کے بڑے زلزلوں کے لیے زیادہ درست ماڈل تیار کر سکتے ہیں، جو صرف سطح کی مشاہدات سے کہیں آگے ہیں۔
توہوکو زلزلہ تاریخ کا سب سے زیادہ زیر مطالعہ واقعہ ہے، لیکن یہ آج بھی نئے حقائق سامنے لا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ بڑے زلزلے کے اثرات صرف فالٹ لائن تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ پوری زمین میں گونجتے ہیں—سطح سے مرکز تک، اور مرکز سے واپس سطح تک۔
