محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے تاریخ میں پہلی بار جامع پی ایل اے پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کے تحت اسپتالوں میں پی ایل اے فنڈز کے غلط اور غیر ضروری استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نئی پالیسی کے نفاذ کے ساتھ ہی فنڈز کی پرانی تقسیم کا طریقہ کار فوری طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت پی ایل اے فنڈز میں سے ڈاکٹروں اور انتظامی عملے کا حصہ ختم کر دیا گیا ہے اور اب اسپتال فنڈز صرف مریضوں کی فلاح کے لیے استعمال ہوں گے۔
محکمہ صحت کی جانب سے سرکاری ٹیچنگ اسپتالوں میں کمرشل اور پرسنل لیجر اکاؤنٹس کے استعمال کے لیے واضح فریم ورک بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ادویات اور طبی سازوسامان کی قلت دور کرنے کے لیے پی ایل اے فنڈز کے استعمال کو سختی سے ریگولیٹ کر دیا گیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت پی ایل اے فنڈز کا 60 فیصد ادویات اور ضروری طبی سامان پر خرچ کیا جائے گا، جبکہ باقی 40 فیصد فنڈز ایمرجنسی ضروریات، انفراسٹرکچر کی بہتری اور مریضوں کی سہولت پر استعمال کیے جا سکیں گے۔ مریضوں کے علاج سے غیر متعلقہ اخراجات، گاڑیوں اور غیر ضروری اشیاء کی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پی ایل اے فنڈز سے فرنیچر یا آئی ٹی آلات کی خریداری صرف اسی صورت میں ممکن ہو گی جب اس کا براہِ راست فائدہ مریضوں کو ہو۔ تمام اسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تمام وصولیاں نامزد کمرشل بینک اکاؤنٹس میں جمع کرائیں۔
پی ایل اے فنڈز کے استعمال کی مانیٹرنگ کی پرفارمنس انڈیکیٹرز کے ذریعے کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ فنڈز کے استعمال کے لیے بورڈ آف مینجمنٹ اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق نئی پالیسی کے نفاذ سے مریضوں کو بروقت، مؤثر اور معیاری علاج میسر آئے گا۔ یہ پالیسی پنجاب کے تمام ٹرشری کیئر اسپتالوں پر نافذ العمل ہو گی۔
