کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر کراچی میں بڑھتے ہوئے پانی کے بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ شہر بھر میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز کرے گی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے جاری پانی کی قلت کے باعث شہر کے مختلف علاقوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر کے کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی نہ ہونے پر عوامی بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث پانی کی طلب بھی بڑھ گئی ہے۔ ایم کیو ایم-پی کے ارکانِ اسمبلی متعدد بار سندھ اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھا چکے ہیں اور صوبائی حکومت پر شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
حالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران ایم کیو ایم-پی کے اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا، نعرے بازی کی اور متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے باعث کارروائی متاثر ہوئی کیونکہ ارکان کا اصرار تھا کہ ایوان کے دیگر معاملات سے پہلے اس مسئلے پر بحث کی جائے۔
سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف علی خورشیدی نے پانی کی قلت کو پورے شہر کا بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ گلشنِ اقبال، اورنگی ٹاؤن اور دیگر متعدد علاقوں کے مکین پینے کے صاف پانی کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو عوامی غم و غصہ سڑکوں پر نکل سکتا ہے۔
ایم کیو ایم-پی کی قیادت نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور طویل عرصے سے زیرِ التوا کے-فور (K-IV) منصوبے پر کام تیز کیا جائے، جسے کراچی کی بڑھتی ہوئی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی نمائندوں نے بھی شہر کو درپیش طویل المدتی آبی مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے-فور منصوبے کی تکمیل ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ثابت ہو سکتی ہے۔
کراچی کا پانی کا بحران طویل عرصے سے شہر کے اہم ترین شہری مسائل میں شامل ہے۔ ماہرین اور حکام کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی، ناکافی انفراسٹرکچر، پانی کی چوری اور بڑے آبی منصوبوں میں تاخیر اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ شہر کے کئی علاقوں کے رہائشی اب بھی پانی کی غیر مستقل فراہمی کی شکایت کرتے ہیں، جس کے باعث انہیں مہنگے نجی واٹر ٹینکروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ایم کیو ایم-پی نے واضح کیا ہے کہ اگر حکام نے فوری طور پر اس بحران کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو پارٹی کراچی بھر میں اپنی احتجاجی مہم کو مزید وسعت دے گی تاکہ شہر کو اس کے جائز پانی کے حصے اور بہتر شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
