لاہور/گلگت: پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف گلگت بلتستان کے انتخابات سے چند روز قبل منگل، 2 جون کو خطے کا ایک روزہ دورہ کریں گے، جہاں وہ پارٹی قیادت، امیدواروں اور مقامی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔
نواز شریف کا یہ دورہ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی سرگرمیوں کے لیے این او سی جاری کیے جانے کے بعد طے ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم کو انتخابی ضابطہ اخلاق اور متعلقہ قانونی پابندیوں کی پاسداری کی شرط کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔
پنجاب کی سینئر وزیر اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کے مطابق نواز شریف اپنے دورے کے دوران گلگت بلتستان میں انتخابی صورت حال کا جائزہ لیں گے۔ وہ پارٹی ٹکٹ ہولڈرز اور مقامی تنظیمی عہدیداروں سے ملاقات کریں گے، جبکہ خطے کے ترقیاتی مسائل اور عوامی ضروریات پر بھی مشاورت ہوگی۔
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 7 جون کو شیڈول ہیں۔ اس سے قبل سخت موسمی حالات کے باعث انتخابی عمل میں تاخیر ہوئی تھی۔ گزشتہ اسمبلی نے نومبر 2025 کے آخر میں اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کی، جس کے بعد نگران سیٹ اپ قائم کیا گیا۔
مسلم لیگ ن اس انتخابی مرحلے کو غیر معمولی اہمیت دے رہی ہے۔ پارٹی قیادت کا خیال ہے کہ نواز شریف کی موجودگی کارکنوں کو متحرک کرے گی اور امیدواروں کو آخری دنوں میں انتخابی مہم کے لیے نئی توانائی ملے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ن لیگ وفاق میں اپنی حکومت، ترقیاتی منصوبوں اور نواز شریف کے ماضی کے بیانیے کو گلگت بلتستان کے ووٹرز کے سامنے مرکزی نکتہ بنانا چاہتی ہے۔
نواز شریف اس سے قبل بھی گلگت بلتستان کی ترقی کو اپنی جماعت کی ترجیحات میں شامل قرار دے چکے ہیں۔ اپریل میں پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ن لیگ حکومت میں آ کر خطے میں سڑکوں، سیاحت، عوامی سہولتوں اور معاشی مواقع پر خصوصی توجہ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے سنجیدہ ہیں۔
تاہم انتخابی ماحول پرسکون نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے امیدواروں اور کارکنوں کو انتخابی مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے اور بعض مقامات پر انتظامی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں انتخابی ضابطہ اخلاق اور قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
سیکیورٹی انتظامات بھی اس وقت بحث کا حصہ ہیں۔ پنجاب حکومت نے گلگت بلتستان انتخابات کے لیے 6 ہزار پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ حکومت اسے انتخابی امن و امان کے لیے ضروری اقدام قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اس پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔
مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان انتخابات کے لیے امیدواروں کے انتخاب میں بھی مرکزی قیادت کو شامل رکھا۔ وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ آصف اور مریم نواز سمیت اہم رہنماؤں نے اسلام آباد میں پارٹی ٹکٹس کے حوالے سے مشاورت کی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ن لیگ اس علاقائی الیکشن کو محض ایک مقامی مقابلہ نہیں سمجھ رہی۔
گلگت بلتستان کی سیاست میں قومی جماعتوں کا اثر ضرور ہے، مگر مقامی برادریوں، حلقہ جاتی اتحادوں، ترقیاتی وعدوں اور آئینی حقوق کے سوالات بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کا دورہ ن لیگ کے لیے اہم ضرور ہے، مگر اصل امتحان 7 جون کو ووٹرز کے فیصلے میں سامنے آئے گا۔
آنے والے انتخابات یہ طے کریں گے کہ مسلم لیگ ن اپنی وفاقی پوزیشن اور ترقیاتی بیانیے کو گلگت بلتستان میں انتخابی کامیابی میں بدل پاتی ہے یا اپوزیشن کے الزامات اور مقامی سیاسی ناراضی ووٹرز کے فیصلے پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
