MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Economypakistan

آئی ایم ایف کی مالی شرائط کے باعث پاکستان کے ترقیاتی بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا

Last updated: جون 2, 2026 9:43 صبح
Syed Jarri Abbas
Share
SHARE

اسلام آباد: پاکستان کا ترقیاتی ایجنڈا مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں شدید دباؤ کا شکار دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ سخت مالی اہداف کے تحت اخراجات کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کئی نئے ترقیاتی منصوبے تاخیر، کٹوتی یا منظوری نہ ملنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام، یعنی PSDP، کے لیے تقریباً 1.126 کھرب روپے کی حد مقرر کی گئی ہے، جبکہ مختلف وزارتوں کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 4.097 کھرب روپے کی طلب سامنے آئی۔ اس بڑے فرق نے حکومت کے لیے ترقیاتی ترجیحات طے کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔

منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی مالی ضروریات اور دستیاب وسائل کے درمیان تقریباً 3 کھرب روپے کا خلا موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جاری منصوبوں کی ذمہ داریوں کو قابو میں نہ لایا گیا تو ترقیاتی شعبے میں ایک نیا “سرکلر ڈیٹ” بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

بجٹ 2026-27 ایسے وقت میں تیار کیا جا رہا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی نظم و ضبط، اخراجات میں کمی، ٹیکس آمدن میں اضافے اور بنیادی سرپلس کے اہداف پورے کرنے کے دباؤ میں ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے تحت حکومت کو مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد بنیادی سرپلس کا ہدف حاصل کرنا ہے، جس کے باعث ترقیاتی اخراجات کے لیے گنجائش محدود ہو گئی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک مشکل توازن کا سامنا ہے۔ ایک طرف حکومت کو آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال رکھنا ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی ترقی، روزگار، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، پانی، توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نئے منصوبوں کے بجائے جاری اور اہم نوعیت کے منصوبوں کو ترجیح دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس پالیسی کے تحت وہ منصوبے پہلے فنڈز حاصل کریں گے جن کی تکمیل قریب ہے یا جو قومی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے برعکس کئی نئے منصوبوں کو محدود فنڈنگ، تاخیر یا مکمل طور پر روک دیے جانے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ترقیاتی بجٹ پہلے ہی کئی برسوں سے دباؤ کا شکار رہا ہے۔ مالی مشکلات، قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات، پنشن، تنخواہوں اور سبسڈیز کے باعث حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے لیے محدود وسائل بچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حکومت مالی خسارہ کم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو سب سے پہلے ترقیاتی اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ترقیاتی اخراجات میں کمی کا اثر صرف سرکاری منصوبوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے معیشت کی طویل مدتی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔ سڑکیں، ڈیم، اسپتال، یونیورسٹیاں، توانائی کے منصوبے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر جیسے شعبے براہ راست عوامی زندگی اور کاروباری سرگرمیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔

حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ محدود مالی وسائل کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی چھانٹی ناگزیر ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق ماضی میں بہت سے منصوبے شروع کیے گئے مگر انہیں مکمل کرنے کے لیے مناسب فنڈز فراہم نہیں کیے گئے، جس سے لاگت میں اضافہ اور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہوئی۔

اب حکومت کو بجٹ 2026-27 میں ایک مشکل فیصلہ کرنا ہوگا: آیا وہ آئی ایم ایف کے مالی اہداف کو ترجیح دیتے ہوئے ترقیاتی اخراجات مزید محدود کرے یا معاشی بحالی اور عوامی سہولت کے لیے اہم منصوبوں کو بچانے کی کوشش کرے۔

موجودہ صورتحال سے واضح ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ ترقیاتی توسیع کے بجائے مالی پابندیوں، محدود وسائل اور آئی ایم ایف کی شرائط کے زیر اثر تشکیل پائے گا۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article این ویڈیا کا پرسنل کمپیوٹرز کے لیے اگلی نسل کا اے آئی چِپ 'آر ٹی ایکس اسپارک' متعارف؛ جینسین ہوانگ نے اے آئی سے نوکریاں ختم ہونے کے خدشات کو 'سراسر بکواس' قرار دے دیا این ویڈیا کا پرسنل کمپیوٹرز کے لیے اگلی نسل کا اے آئی چِپ ‘آر ٹی ایکس اسپارک’ متعارف؛ جینسین ہوانگ نے اے آئی سے نوکریاں ختم ہونے کے خدشات کو ‘سراسر بکواس’ قرار دے دیا
Next Article بھارت کا شہر باندا شدید گرمی کی لپیٹ میں، 47 سے 48 ڈگری درجہ حرارت نے دن رات کا فرق مٹا دیا بھارت کا شہر باندا شدید گرمی کی لپیٹ میں، 47 سے 48 ڈگری درجہ حرارت نے دن رات کا فرق مٹا دیا
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
یورپی خلائی ایجنسی کا ’پروبا-3‘ مشن: مصنوعی گرہن کے ذریعے سورج کے رازوں کی تلاش
یورپی خلائی ایجنسی کا ’پروبا-3‘ مشن: مصنوعی گرہن کے ذریعے سورج کے رازوں کی تلاش
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 17, 2026
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال ختم، سپلائی لائن بحال
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال ختم، سپلائی لائن بحال
تازہ ترین کاروبار اور تجارت
اگست 17, 2026
چین کا ایشیا میں اثر و رسوخ، ٹرمپ کی ایران پر توجہ: امریکی خارجہ پالیسی میں تضاد
چین کا ایشیا میں اثر و رسوخ، ٹرمپ کی ایران پر توجہ: امریکی خارجہ پالیسی میں تضاد
تازہ ترین سیاست
اگست 17, 2026
کرسٹیانو رونالڈو کی ریٹائرمنٹ کا عندیہ: 2026 کا سیزن آخری ہو سکتا ہے
کرسٹیانو رونالڈو کی ریٹائرمنٹ کا عندیہ: 2026 کا سیزن آخری ہو سکتا ہے
تازہ ترین کھیل
اگست 17, 2026
یونان کے جزیرے خیوس میں دو آتشزدگیوں سے دو افراد ہلاک، سینکڑوں بے گھر
یونان کے جزیرے خیوس میں دو آتشزدگیوں سے دو افراد ہلاک، سینکڑوں بے گھر
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
اگست 17, 2026
اینڈرائیڈ 15 بیٹا 3: کوئیک سیٹنگز کے انٹرفیس میں بڑی تبدیلیاں
اینڈرائیڈ 15 بیٹا 3: کوئیک سیٹنگز کے انٹرفیس میں بڑی تبدیلیاں
Technology تازہ ترین
اگست 17, 2026

You Might Also Like

بجٹ 2026-27 کا پلان حتمی بنانے کے لیے سات رکنی کمیٹی قائم
Economyتازہ ترین

بجٹ 2026-27 کا پلان حتمی بنانے کے لیے سات رکنی کمیٹی قائم

By Ayesha Masood
پیٹرول کی قیمت کا بوجھ: ٹیکسز اور منافع کا تناسب ایندھن کی اصل لاگت سے زیادہ
Economyتازہ ترین

پیٹرول کی قیمت کا بوجھ: ٹیکسز اور منافع کا تناسب ایندھن کی اصل لاگت سے زیادہ

By Haris Ali
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں: 6 اگست کے لیے نئی نرخوں کا اعلان
Economyتازہ ترین

پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں: 6 اگست کے لیے نئی نرخوں کا اعلان

By Ayesha Masood
Economyبریکنگ نیوز

وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان، وزیر خزانہ کا بیان

By Ayan Ahmed
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?