لندن: نیوزی لینڈ کے سابق کپتان کین ولیمسن ایک بار پھر لارڈز میں کھیلنے کے لیے تیار ہیں، اور اس بار یہ واپسی صرف ایک میچ تک محدود نہیں ہوگی۔ وہ انگلش سیزن کے دوران مڈل سیکس اور لندن اسپرٹ دونوں کی نمائندگی کریں گے، جبکہ دی ہنڈرڈ میں لندن اسپرٹ کی قیادت بھی کریں گے۔
ولیمسن نے لارڈز کو دنیا کے اپنے پسندیدہ میدانوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس گراؤنڈ سے ان کی کئی خاص یادیں جڑی ہیں۔ ان کے مطابق لارڈز نے اپنی روایات کو جس طرح برقرار رکھا ہے، وہ اسے دنیا کے دوسرے میدانوں سے الگ اور منفرد بناتا ہے۔
مڈل سیکس کے ساتھ ان کا معاہدہ نیوزی لینڈ کے بین الاقوامی شیڈول میں وقفے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ وہ کلب کے لیے ویٹیلٹی بلاسٹ کے کم از کم 10 میچز اور کاؤنٹی چیمپئن شپ کے کم از کم پانچ میچز کھیلیں گے۔ اس کے بعد وہ دی ہنڈرڈ میں لندن اسپرٹ کی کپتانی کریں گے۔
ولیمسن کے لیے لارڈز صرف ایک تاریخی کرکٹ گراؤنڈ نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ان کے کیریئر کے کئی بڑے لمحات رقم ہوئے۔ 2015 میں انہوں نے انگلینڈ کے خلاف اسی میدان پر 132 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی، جس کے بعد ان کا نام لارڈز کے مشہور آنرز بورڈ پر درج ہوا۔
پھر 2019 کا ورلڈ کپ فائنل آیا۔ نیوزی لینڈ نے ولیمسن کی قیادت میں لارڈز ہی میں انگلینڈ کا سامنا کیا، جہاں میچ اور سپر اوور دونوں برابر رہے، مگر انگلینڈ کو باؤنڈری کاؤنٹ کے قانون کے تحت فاتح قرار دیا گیا۔ وہ دن نیوزی لینڈ کرکٹ کے لیے شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ یادوں میں سے ایک ہے۔
اس بار معاملہ مختلف ہے۔ ولیمسن لارڈز میں کسی بڑے فائنل یا ٹیسٹ سیریز کے دباؤ کے ساتھ نہیں آ رہے، بلکہ ایک سینئر پروفیشنل کے طور پر آ رہے ہیں۔ مڈل سیکس کو ان کی تکنیک، تجربے اور پرسکون مزاج سے فائدہ ملے گا، جبکہ لندن اسپرٹ کو ایک ایسا کپتان ملے گا جو مشکل حالات میں بھی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔
لارڈز کی خاص بات صرف اس کی تاریخ نہیں۔ اس گراؤنڈ کی ڈھلوان، پویلین کا ماحول، ممبرز کی روایت اور میچ کے دوران محسوس ہونے والی مخصوص فضا اسے واقعی الگ بناتی ہے۔ ولیمسن جیسے کھلاڑی، جو باریکیوں کو سمجھتے ہیں، شاید اسی لیے لارڈز کو اتنی اہمیت دیتے ہیں۔
مڈل سیکس اور لارڈز انتظامیہ نے بھی ولیمسن کی آمد کو شائقین کے لیے بڑی خبر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیار کے بلے باز کو پورے سیزن کے دوران لارڈز میں کھیلتے دیکھنا کرکٹ مداحوں کے لیے خاص موقع ہوگا۔
ولیمسن اس سے پہلے انگلینڈ میں گلوسٹرشائر اور یارکشائر کے لیے کاؤنٹی کرکٹ کھیل چکے ہیں، مگر اس مرتبہ لارڈز ان کے انگلش سیزن کا مستقل مرکز بنے گا۔ مئی سے ستمبر تک وہ مختلف فارمیٹس میں اسی تاریخی میدان پر ایکشن میں دکھائی دیں گے۔
لارڈز نے ولیمسن کو خوشی بھی دی ہے اور درد بھی۔ اب وہ ایک بار پھر اسی میدان میں واپس آ رہے ہیں، مگر اس بار ایک نسبتاً پُرسکون کردار میں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی واپسی کرکٹ شائقین کے لیے خاص معنی رکھتی ہے۔
