ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچپن میں صحت مند اور متوازن غذا بچوں کی ذہنی نشوونما پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے اور نوعمری میں ان کی ذہانت (intelligence) بہتر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی عمر میں دی جانے والی غذائیت دماغ کی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے۔ پروٹین، وٹامنز، معدنیات اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور غذا یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جن بچوں کی خوراک زیادہ متوازن اور صحت بخش تھی، ان کی تعلیمی کارکردگی اور ذہنی صلاحیتیں بعد کی عمر میں نسبتاً بہتر رہیں۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی صحت مند کھانے کی عادت ڈالیں، جن میں تازہ پھل، سبزیاں، دودھ اور کم پراسیس شدہ خوراک شامل ہو۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ذہانت پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن ابتدائی غذائیت ایک اہم اور قابلِ توجہ عنصر ہے۔
