مظفرآباد — آزاد جموں و کشمیر میں انسدادِ دہشت گردی فورس نے ایک خفیہ آپریشن کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سلیپر سیل کے لیے کام کر رہے تھے۔ چھاپے کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا، جسے حکام نے خطے میں ممکنہ تخریب کاری کے بڑے منصوبے کو ناکام بنانے سے تعبیر کیا ہے۔
یہ کارروائی مظفرآباد کے مضافاتی علاقے میں ایک رہائشی کمپاؤنڈ پر کی گئی۔ محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان مشتبہ افراد کی نقل و حرکت گزشتہ تین ہفتوں سے انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی میں تھی، جس کے بعد سرحد پار سے ملنے والے رابطوں کی تصدیق کے بعد یہ چھاپہ مارا گیا۔
افسر نے بتایا کہ "ہمیں صرف پستول نہیں ملے، بلکہ برآمدگی میں دیسی ساختہ بم کے پرزے اور انکرپٹڈ سیٹلائٹ آلات بھی شامل ہیں۔ یہ محض مقامی شرپسند نہیں تھے، بلکہ انہیں منظم تخریب کاری کے لیے تربیت دی گئی تھی۔”
یہ گرفتاریاں لائن آف کنٹرول پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کے دوران عمل میں آئی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب سے طویل عرصے سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا جدید اسلحہ—جس میں سے زیادہ تر غیر ملکی ساختہ ہے—اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نیٹ ورک بیرونی ہاتھوں سے کنٹرول ہو رہا تھا۔
گرفتار کیے گئے پانچوں افراد کی شناخت تاحال صیغہ راز میں رکھی گئی ہے۔ انہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں تفتیشی ٹیمیں ان کے مالیاتی ذرائع کا سراغ لگا رہی ہیں۔ حکام کو شبہ ہے کہ ان کی مقامی سرگرمیوں کے لیے رقوم کی منتقلی ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے کی جا رہی تھی۔
آزاد کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران کسی منظم انٹیلی جنس نیٹ ورک کے خلاف یہ دوسری بڑی کارروائی ہے۔ اگرچہ مقامی انتظامیہ اسے علاقائی استحکام کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر خطے کی نازک سکیورٹی صورتحال کو نمایاں کر دیا ہے۔
