Saudi Arabia نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی فضائی صنعت کو درپیش مشکلات کے باوجود اپنی نئی قومی ایئرلائن Riyadh Air کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ریاض ایئر کا قیام وژن 2030 پروگرام کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنا، سیاحت کو فروغ دینا اور سعودی عرب کو عالمی فضائی اور کاروباری مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی ایئرلائن دنیا کے مختلف بڑے شہروں کے لیے پروازیں شروع کرے گی اور ریاض کو بین الاقوامی سفری مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ریاض ایئر جدید ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کی سفری سہولیات اور بین الاقوامی رابطوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے گی۔
یہ لانچ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو طیاروں کی ترسیل میں تاخیر، سپلائی چین کے مسائل اور خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم سعودی حکام نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ ریاض ایئر مستقبل میں سیاحت، روزگار اور اقتصادی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ماہرین کے مطابق نئی ایئرلائن کا آغاز سعودی عرب کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ خلیجی فضائی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے عالمی ایوی ایشن مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
