Amnesty International نے Israel پر مقبوضہ مغربی کنارے میں بدو برادریوں کی “نسلی صفائی” کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان کے مطابق اسرائیلی حکام کی پالیسیوں کے نتیجے میں بدو خاندانوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ گھروں کی مسماری، زمین تک رسائی میں رکاوٹیں اور نقل مکانی پر مجبور کرنے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ کئی بدو برادریاں بے دخلی کے خطرات اور خراب ہوتی زندگی کی صورتحال کا سامنا کر رہی ہیں، اور ایسے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ مسماری اور منتقلی کے اقدامات تعمیراتی اور منصوبہ بندی کے قوانین کے تحت کیے جاتے ہیں، اور بغیر اجازت تعمیر کی گئی عمارتوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر عالمی توجہ میں اضافہ ہو رہا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شہری آبادی کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
