بحرالکاہل میں ‘ایل نینو’ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے اور ماہرینِ موسمیات اس موسمِ سرما کی ممکنہ شدت دیکھ کر ابھی سے الرٹ جاری کر رہے ہیں۔ امریکی ادارے ‘نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن’ کے تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خطِ استوا کے قریب بحرالکاہل کی سطح کا درجہ حرارت مقررہ حد عبور کر چکا ہے۔ موسمیاتی ماڈلز کے مطابق اس سال کے اختتام تک یہ لہر ‘تاریخی’ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
یہ کوئی معمولی موسمی تبدیلی نہیں ہے۔ ماہرین اسے ‘سپر ایل نینو’ کا نام دے رہے ہیں — ایک ایسا نایاب واقعہ جو پوری دنیا میں موسموں کو تلپٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شمالی امریکہ کے لیے یہ صورتحال دوہری مشکل کا باعث بنے گی۔ امریکہ اور کینیڈا کے شمالی علاقوں میں موسمِ سرما گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے، جس سے مغربی حصوں میں خشک سالی مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، جنوبی ریاستوں میں شدید بارشوں اور ٹھنڈے موسم کا امکان ہے، جس سے سیلاب اور طوفانی لہروں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ وہاں کا نکاسیِ آب کا پرانا نظام اس غیر معمولی دباؤ کو جھیلنے کی سکت شاید نہ رکھ سکے۔
کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر کے ایک سینئر سائنسدان کا کہنا ہے کہ "ایل نینو کی یہ لہر ایک واضح خطرہ ہے۔ ہم محض معمولی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی صورتحال دیکھ رہے ہیں جو ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔”
اس کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں ہوں گے۔ عالمی منڈیوں میں اجناس کی قیمتوں پر اس کے اثرات ابھی سے نظر آنے لگے ہیں۔ جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا کے زرعی شعبے فصلوں کی ممکنہ تباہی کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں، کیونکہ ایل نینو کہیں موسلا دھار بارشیں لاتا ہے تو کہیں زمین کو بنجر کر دیتا ہے۔ گندم اور سویابین کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماضی کی مثالیں اس حوالے سے کافی خوفناک ہیں۔ آخری بار جب 2015-2016 میں اس سطح کا ایل نینو آیا تھا، تو اس نے سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا کے جنگلات میں آگ اور عالمی سطح پر ریکارڈ گرمی کو جنم دیا تھا۔ اگرچہ آج کا انفراسٹرکچر ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن اس ‘تاریخی’ لہر کا مقابلہ کرنا کسی بھی ہنگامی امداد کے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔
مقامی حکومتیں اب ہنگامی بجٹ اور تیاریوں میں مصروف ہیں، اگرچہ اب بھی یہ واضح نہیں ہے کہ بارشوں کا سب سے زیادہ دباؤ کن مخصوص علاقوں پر پڑے گا۔
بحرالکاہل میں بساط بچھ چکی ہے اور فضا میں اس کا ردعمل شروع ہو چکا ہے۔ آنے والے تین ماہ کے دوران سمندر کی تپش ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ یہ موسمِ سرما محض ایک چیلنج ہوگا یا تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ۔ فی الحال تمام موسمیاتی اشارے ایک ہی سمت میں ہیں: یہ سیزن غیر معمولی ہونے والا ہے۔
