پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سینٹرل کنٹریکٹ کے روایتی نظام کو ختم کر کے فارمیٹ پر مبنی نیا ماڈل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد کھلاڑیوں کو اب ان فارمیٹس کے مطابق معاوضہ ملے گا جن میں وہ قومی ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔ بورڈ کا مقصد کارکردگی اور دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔
اس فیصلے کے پیچھے پی سی بی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کنٹرول کرنا اور کھلاڑیوں کو ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے مشکل شیڈول میں فٹنس برقرار رکھنے پر آمادہ کرنا ہے۔ اب تک کھلاڑیوں کو ایک مجموعی تنخواہ ملتی تھی، چاہے وہ کسی خاص فارمیٹ میں ٹیم کا حصہ ہوں یا نہیں۔ اس نئے نظام سے پی سی بی اس "بلینکٹ پے” اسٹرکچر کو ختم کر رہا ہے، جس کے تحت کھلاڑی محدود شرکت کے باوجود مکمل ریٹینر وصول کرتے تھے۔
یہ محض اخراجات میں کمی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک تزویراتی تبدیلی ہے۔ سلیکٹرز اور بورڈ حکام کو طویل عرصے سے کھلاڑیوں کی روٹیشن میں مشکلات کا سامنا تھا، خاص طور پر ان کھلاڑیوں کے معاملے میں جو قومی ڈیوٹی پر غیر ملکی لیگز کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب کھلاڑی کی آمدنی کا براہِ راست تعلق ان کی قومی ٹیم کے لیے عملی خدمات سے ہوگا۔
ذرائع کے مطابق، یہ تبدیلی تمام فارمیٹس کھیلنے والے کھلاڑیوں کے لیے زیادہ اثر انگیز ہوگی، کیونکہ بورڈ گزشتہ دو برسوں میں تنخواہوں میں ہونے والے اضافے کو روکنا چاہتا ہے۔ نئے کنٹریکٹس میں کھلاڑیوں کو واضح کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے گا۔ آل فارمیٹ کھلاڑیوں کو پریمیم ریٹینر ملے گا، جبکہ صرف محدود اوورز یا ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والوں کی تنخواہیں ان کے ورک لوڈ کے مطابق طے ہوں گی۔
یہ تبدیلی بورڈ کے کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوچ میں بدلاؤ کی عکاس ہے۔ پی سی بی برسوں سے ایک ایسے ماڈل پر کام کر رہا تھا جو طویل مدتی سیکیورٹی فراہم کرتا تھا، لیکن موجودہ انتظامیہ اب جوابدہی پر توجہ دے رہی ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی ٹیسٹ سیریز چھوڑ کر غیر ملکی لیگ کا انتخاب کرے گا، تو اس کے کنٹریکٹ اور معاوضے پر فوری اثر پڑے گا۔
بورڈ آئندہ چند ہفتوں میں ان کنٹریکٹس کا اعلان کرے گا۔ اگرچہ کھلاڑیوں کی ایسوسی ایشن نے انجری کی صورت میں آمدنی میں کمی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم پی سی بی اپنے موقف پر قائم ہے۔ بورڈ کا پیغام واضح ہے: فارمیٹ سے قطع نظر گارنٹی والی تنخواہوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔
اس فیصلے سے اسکواڈ میں نظم و ضبط آئے گا یا بورڈ اور اسٹار کھلاڑیوں کے درمیان خلیج بڑھے گی، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ فی الحال قذافی اسٹیڈیم سے ملنے والا پیغام صاف ہے: اگر آپ کھیل نہیں رہے، تو آپ کو ادائیگی نہیں ہوگی۔
