کراچی — کراچی پولیس نے انسدادِ دہشت گردی کی ایک مبینہ کارروائی کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے اس نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک ‘پین بم’ دھماکے میں زخمی ہوا ہے۔ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ دھماکہ کسی بم سے نہیں بلکہ ایک پٹاخے کے ہاتھ میں پھٹنے سے ہوا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق جھوٹی اطلاع فراہم کرنے اور اداروں کو گمراہ کرنے کی دفعات کے تحت نوجوان کے خلاف تھانہ کھوکھراپار میں مقدمہ درج کر کے اسے حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
ملزم عبدالسمیع، جو نیو کراچی کا رہائشی ہے، نے ابتدائی طور پر پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ وہ ماڈل کالونی ریلوے ٹریک کے پاس سے گزر رہا تھا کہ اسے سڑک کنارے ایک چمکدار، قلم نما چیز ملی، جو ہاتھ لگاتے ہی دھماکے سے پھٹ گئی جس سے اس کے ہاتھ کی انگلیاں اور چہرہ زخمی ہو گئے۔ اس بیان کے بعد کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا اور دہشت گردی و بارودی مواد ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔ ملزم کو علاج کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
تاہم، سی ٹی ڈی کی سائنسی اور تفتیشی ٹیموں نے جب جائے وقوعہ کا معائنہ کیا تو وہاں کسی بھی قسم کے منظم بم یا دھماکہ خیز مواد کے شواہد نہیں ملے۔ دورانِ تفتیش عبدالسمیع نے اعتراف کر لیا کہ اس نے اپنے کزن کی سالگرہ کی تقریب کے لیے پٹاخے خریدے تھے، جو اس کے اپنے ہی ہاتھ میں چل گئے۔ کارروائی اور سزا سے بچنے کے لیے اس نے ‘پین بم’ ملنے کی جھوٹی کہانی گھڑی تھی۔ پولیس اب پرانی ایف آئی آر کو ختم کر کے ملزم کے خلاف اداروں کو گمراہ کرنے کے جرم میں قانونی کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔
