اٹلانٹا: امریکی ریفری ٹوری پینسو نے جمعرات کو مردوں کے ورلڈ کپ کے میچ کی نگرانی کرتے ہوئے فٹبال کی تاریخ میں اپنا نام درج کرا دیا۔ وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے والی دنیا کی صرف دوسری خاتون ریفری بن گئی ہیں۔
ٹوری پینسو نے اٹلانٹا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے گروپ اے کے اہم میچ میں چیکیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان مقابلے کی ذمہ داری سنبھالی، جسے عالمی فٹبال میں خواتین کی نمائندگی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل فرانسیسی ریفری اسٹیفنی فراپارٹ نے 2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں مردوں کے عالمی کپ کا میچ ریفری کروا کر پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
39 سالہ ٹوری پینسو کا تعلق امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اسٹیورٹ سے ہے۔ فٹبال سے ان کی دلچسپی اپنے بڑے بھائیوں کے ذریعے پیدا ہوئی اور ابتدا میں وہ خود ایک کھلاڑی بننا چاہتی تھیں۔
تاہم 14 سال کی عمر میں اپنی والدہ کے مشورے پر انہوں نے نوجوانوں کے میچز میں ریفری کے فرائض انجام دینا شروع کیے، جو بعد ازاں ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔
پینسو کے مطابق ریفری بننے کے تجربے نے انہیں فوری فیصلے کرنے، دباؤ میں کام کرنے اور قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے میں مدد دی۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ خواتین کو کھیلوں میں نمایاں کردار ادا کرتے دیکھنا ان کے لیے انتہائی متاثر کن تجربہ تھا، جس نے ان کی سوچ کو مکمل طور پر بدل دیا۔
ٹوری پینسو نے 2020 میں بھی ایک اہم ریکارڈ قائم کیا تھا جب وہ تقریباً دو دہائیوں بعد میجر لیگ سوکر کے میچ کی ریفری بننے والی پہلی خاتون قرار پائیں۔ اس موقع پر انہوں نے نیش وِل ایس سی اور ڈی سی یونائیٹڈ کے درمیان میچ آفیشیٹ کیا تھا۔
فٹبال ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ میں ان کی یہ تقرری خواتین کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ کھیل کے اعلیٰ ترین درجے پر خواتین کے لیے مواقع مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
اٹلانٹا میں افتتاحی سیٹی بجاتے ہوئے ٹوری پینسو نے نہ صرف ایک اہم ورلڈ کپ میچ کا آغاز کیا بلکہ عالمی فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا باب بھی رقم کر دیا۔
