جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی برف پگھلانے کی حالیہ کوشش پہلے ہی دن ناکامی سے دوچار نظر آئی۔ مذاکرات کے آغاز پر ہی دونوں اطراف سے سامنے آنے والے سخت بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ برسوں پر محیط بداعتمادی کی دیوار گرانا تاحال ایک مشکل ہدف ہے۔
امریکی وفد کا ایجنڈا خطے میں کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنا تھا، لیکن ایرانی نمائندوں نے بات چیت کا رخ فوری طور پر پابندیوں کے خاتمے کی جانب موڑ دیا۔ مذاکرات کے پہلے سیشن کے اختتام سے قبل ہی یہ خلیج کھل کر سامنے آ گئی۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں سے کہا، "ہم یہاں گزشتہ دہائی کے گلے شکوے دہرانے نہیں آئے، ہمارا مقصد موجودہ کشیدگی کو روکنا ہے۔”
دوسری جانب، ایرانی وفد نے اس امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے "حقیقی پیشکش” کے بجائے ایک "ٹیکنیکل چال” قرار دیا۔ تہران کا موقف ہے کہ اقتصادی تعلقات کی بحالی کے بغیر کسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔ یہ تلخ کلامی ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک سفارتی لچک دکھانے کے بجائے اپنے داخلی سیاسی بیانیے کو مضبوط کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
تعطل کی بنیادی وجہ رعایتوں کی ترتیب ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت سے پہلے پابندیاں ہٹائی جائیں، جبکہ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ مالیاتی ریلیف صرف طویل مدتی اور قابل تصدیق تکنیکی پابندیوں کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے۔
یہ تعطل نیا نہیں، مگر موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں اس کی شدت زیادہ خطرناک ہے۔ خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں دارالحکومتوں پر شدید دباؤ ہے کہ وہ اپنی عوام کو یہ تاثر نہ دیں کہ انہوں نے دوسرے فریق کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔
مذاکرات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پہلے دن کا مشترکہ اجلاس دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ختم ہونا ایک واضح اشارہ ہے۔ جب مذاکرات کار اجلاس مختصر کر دیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بات کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اب مزید لچک دکھانے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
دونوں وفود کل صبح دوبارہ ملیں گے۔ آیا وہ ابتدائی دن کی اس سرد مہری سے نکل کر زمینی حقائق پر بات کر پائیں گے یا نہیں، یہ ایک بڑا سوال ہے، لیکن فی الحال حالات بہتری کے بجائے مزید بگاڑ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
