دوحہ — قطر کے صنعتی شہر راس لفان میں واقع ایک بڑے قدرتی گیس پلانٹ میں منگل کی صبح ہونے والے زوردار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 54 مزدور زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد شمالی جزیرہ نما کے اس صنعتی مرکز میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔
واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔ دھماکہ پلانٹ کے ایک پروسیسنگ یونٹ میں ہوا جس کی گونج دور دور تک سنی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد اٹھنے والے شعلوں اور جھٹکے نے قریبی انتظامی عمارتوں کے شیشے توڑ دیے۔
امدادی ٹیمیں چند منٹوں کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ قطر کی وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ 54 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق 12 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جو اس وقت حماد جنرل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج ہیں۔
پلانٹ کے ایک سینئر سیفٹی آفیسر نے صحافیوں کو بتایا کہ "صورتحال اب قابو میں ہے، تاہم جائے وقوعہ فی الحال غیر مستحکم ہے۔” انہوں نے دھماکے کی ٹھوس وجہ بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
پلانٹ میں کام کو غیر معینہ مدت تک روک دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ تنصیب قطر کے مائع قدرتی گیس برآمدی نیٹ ورک کا اہم حصہ ہے، لیکن توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بندش سے عالمی منڈی میں قیمتوں پر فوری اثر پڑنے کا امکان کم ہے۔ قطر دنیا کی تقریباً 20 فیصد پیدا کرتا ہے، اور متاثرہ پلانٹ پہلے ہی معمول سے کم صلاحیت پر کام کر رہا تھا کیونکہ وہاں دیکھ بھال کا کام جاری تھا۔
راس لفان میں حفاظتی پروٹوکول مشرق وسطیٰ میں سب سے سخت سمجھے جاتے ہیں۔ منگل کا واقعہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کے توانائی کے شعبے میں ہونے والے بڑے صنعتی حادثات میں سے ایک ہے۔ اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا پلانٹ کا انفراسٹرکچر اپنی عمر پوری کر چکا تھا، جس کا خدشہ انڈسٹری کے ماہرین کئی ماہ سے ظاہر کر رہے تھے۔
دھوئیں کے بادل چھٹنے کے بعد اب توجہ زخمیوں کی صحت اور حادثے کی وجوہات پر مرکوز ہے۔ وزارت محنت نے توانائی کمپنی کے ساتھ مل کر مشترکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ انسانی غلطی تھی یا کسی تکنیکی خرابی کے باعث آگ لگی۔
ان 54 متاثرہ خاندانوں کے لیے تحقیقات کا عمل کوئی خاص تسلی نہیں لایا۔ قطر کے توانائی کے شعبے کے لیے یہ حادثہ اس صنعت کی غیر یقینی صورتحال کی تلخ یاد دہانی ہے جس پر ملک کی معیشت کا انحصار ہے۔
