کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی تبدیلی سے متعلق گردش کرنے والی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ منگل کے روز کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ان رپورٹس کو سیاسی شور پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔
گزشتہ ایک ہفتے سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے چہ مگوئیاں عروج پر تھیں۔ یہ افواہیں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب صوبائی حکومت کو کراچی میں امن و امان کی صورتحال اور اسٹریٹ کرائمز کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم شرجیل میمن نے واضح کیا کہ پارٹی قیادت کو وزیراعلیٰ پر مکمل اعتماد ہے۔
"یہ سب من گھڑت کہانیاں ہیں،” شرجیل میمن نے کہا۔ انہوں نے زور دیا کہ پیپلز پارٹی کی توجہ داخلی تبدیلیوں کے بجائے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور حکومتی کارکردگی پر مرکوز ہے۔
سندھ کی سیاست میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی افواہیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ اکثر جب وفاقی سطح پر سیاسی ہلچل ہو یا اتحادی جماعتوں کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہو، تو کراچی میں قیادت کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔ اپوزیشن، بالخصوص ایم کیو ایم پاکستان، بلدیاتی اختیارات اور پولیسنگ کے معاملات پر مراد علی شاہ کی حکومت کو مسلسل ہدف تنقید بناتی رہی ہے۔
مراد علی شاہ 2016 سے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس طویل عرصے کے دوران انہوں نے کئی سیاسی بحرانوں اور دو عام انتخابات کا سامنا کیا ہے۔ اگرچہ ان کی حکومت پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے حوالے سے تعریفیں بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن کراچی میں جرائم کی شرح میں اضافہ ان کی حکومت کے لیے مستقل چیلنج رہا ہے۔
شرجیل میمن کا یہ بیان پارٹی کی صفوں میں اتحاد کا پیغام دینے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ افواہوں کو "بے بنیاد” قرار دے کر انہوں نے بیانیے کو دوبارہ صوبائی کابینہ کے قانون سازی کے ایجنڈے کی طرف موڑنے کی کوشش کی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس واضح تردید کے بعد بھی افواہوں کا بازار مکمل طور پر سرد پڑنا مشکل ہے، لیکن پیپلز پارٹی نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں۔
