برطانیہ میں سرخ گلہریوں کی آبادی ایک نئے اور سنگین خطرے کی زد میں ہے۔ ملک بھر کے جنگلات اور قدرتی رہائش گاہوں سے ملنے والی رپورٹس میں گلہریوں میں ایک پراسرار بیماری کی علامات دیکھی گئی ہیں، جس کے بعد وائلڈ لائف ٹرسٹ اور محکمہ جنگلات نے ہنگامی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
متاثرہ علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، گلہریاں شدید سستی، وزن میں غیر معمولی کمی اور جسم پر زخموں کا شکار ہو رہی ہیں۔ فیلڈ میں کام کرنے والے ماہرینِ حیاتِ وحش کو خدشہ ہے کہ یہ وبا ان علاقوں میں گلہریوں کی باقی ماندہ آبادی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ایک علاقائی وائلڈ لائف کوآرڈینیٹر نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایسے جانور دیکھ رہے ہیں جو واضح طور پر بیمار ہیں۔ یہ مسئلہ کسی ایک محدود علاقے تک ہے یا اس کا پھیلاؤ وسیع ہے، یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنا ہماری پہلی ترجیح ہے۔”
تحقیقاتی ٹیمیں اب اس بات کا تعین کر رہی ہیں کہ آیا یہ بیماری ‘اسکوئرل پوکس’ ہے یا پھر کوئی ایڈینو وائرس۔ اسکوئرل پوکس سرخ گلہریوں کے لیے اکثر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین نے لیبارٹری تجزیے کے لیے نمونے اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ وائرس کی نوعیت کا حتمی تعین کیا جا سکے۔
سرخ گلہریاں پہلے ہی برطانیہ میں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کی بڑی وجہ ان کی جگہ لینے والی سرمئی گلہریاں ہیں۔ سرمئی گلہریاں خود اس وائرس کی حامل ہوتی ہیں لیکن ان پر اس کا اثر نہیں ہوتا، تاہم وہ ‘خاموش کیریئر’ کے طور پر سرخ گلہریوں میں بیماری منتقل کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
ماہرینِ حیاتیات کے مطابق، جنگلات کے کٹاؤ اور خوراک کی کمی نے پہلے ہی سرخ گلہریوں کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی معمولی بیماری کا پھیلاؤ پوری آبادی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
حکام نے عوام کے لیے فوری ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے باغات میں لگے پرندوں کے فیڈرز اور گلہریوں کے لیے رکھے گئے کھانے کے مراکز کو فوراً ہٹا دیں، کیونکہ یہ مقامات جانوروں کے اکٹھے ہونے کی وجہ سے وائرس کے پھیلاؤ کا اہم مرکز بن رہے ہیں۔
ایک ماہرِ ماحولیات نے کہا کہ "اس وقت مدد کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ جانوروں کے اجتماع کو روکا جائے۔ اگر ہم انہیں ایک دوسرے سے دور رکھنے میں کامیاب ہو گئے، تو شاید ہم اس وبا کو ان کے باقی ماندہ ٹھکانوں تک پہنچنے سے روک سکیں۔”
ابتدائی لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج رواں ہفتے کے آخر تک متوقع ہیں۔ ان نتائج کی روشنی میں ہی حکام متاثرہ جنگلات میں سخت قرنطینہ یا دیگر حفاظتی اقدامات کا فیصلہ کریں گے۔
