اسلام آباد — پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے قومی اسمبلی کے فلور پر 2018 کے عام انتخابات کی قانونی حیثیت سے متعلق دیے گئے بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے فروری 2024 کے انتخابات میں مبینہ عوامی مینڈیٹ کی چوری کا اعتراف قرار دیا ہے۔
قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے موجودہ حکومت کو غیر قانونی کہا تھا، جس پر جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر 2018 کے انتخابات کے بعد بننے والی حکومت قانونی تھی تو موجودہ حکومت بھی آئینی ہے، اور انہوں نے 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
بدھ کے روز پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے وزیرِ اعظم کے اس بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت 2018 اور 2024 کے انتخابات کا غلط موازنہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان نے حکومت بنانے کے بعد اپوزیشن کو کسی بھی حلقے کی دوبارہ جانچ پڑتال کی کھلی پیشکش کی تھی، جبکہ موجودہ حکمران 2024 کے انتخابی نتائج کا بائیومیٹرک یا فرانزک آڈٹ کروانے سے خوفزدہ ہیں۔ پی ٹی آئی نے چیلنج کیا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کے لیے 2018 اور 2024 دونوں انتخابات کا عدالتی نگرانی میں شفاف آڈٹ کروایا جائے۔
ترجمان تحریکِ انصاف نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالیاتی سال 2024-25 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 25 ارب روپے سے زائد کی رقم انتہائی مشکوک اور غیر قانونی طریقوں سے تقسیم کی گئی، جبکہ 3 ارب روپے سے زائد کی رقم پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر خرچ کی گئی۔ پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ ڈیٹا سسٹم میں دانستہ ہیر پھیر کر کے سرکاری ملازمین سمیت 6 لاکھ سے زائد نااہل افراد کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا اور غریب بیواؤں، یتیموں اور مستحق خاندانوں کا حق مارا گیا۔ انہوں نے اس معاملے پر سپریم کورٹ کی نگرانی میں جوڈیشل انکوائری اور ملوث افسران کے خلاف سخت فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے وہاں ہونے والی سیاسی اور انتظامی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مطالبات کو طاقت، بلاجواز گرفتاریوں اور سخت بیانات کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے اس حساس خطے میں مزید عدم استحکام اور عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
آخر میں، پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات نے اعلان کیا کہ اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور زندگی کو خطرے میں ڈالنے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، حکومتِ پنجاب اور جیل حکام کے خلاف تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر تمام اسیر رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
