واشنگٹن ڈی سی — امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران سے متعلق جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے خلیجی عرب اتحادیوں کو یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی ممکنہ معاہدہ علاقائی سلامتی کو ترجیح دے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے شراکت داروں کے خدشات کو مدنظر رکھے گا۔
خلیجی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران روبیو نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ کشیدگی کم کرنے اور مزید تنازعات کو روکنے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکراتی عمل میں شراکت دار ممالک سے مشاورت ایک اہم عنصر رہے گی۔
یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور وسیع تر سلامتی کے معاملات سے متعلق پیش رفت پر خطے میں گہری دلچسپی پائی جاتی ہے۔ کئی خلیجی ممالک سفارتی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن اور استحکام کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔
روبیو نے کہا کہ واشنگٹن خلیجی عرب ممالک کے سلامتی سے متعلق خدشات کو بخوبی سمجھتا ہے اور اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ کوئی بھی معاہدہ طویل المدتی امن اور علاقائی استحکام میں مثبت کردار ادا کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت کاری اور تصدیقی اقدامات پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ذرائع ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق جاری سفارتی کوششوں کا مقصد فوجی تصادم کے خطرات کو کم کرنا اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ امریکی نمائندوں نے یہ بھی دہرایا کہ ایران سے متعلق کسی بھی مستقبل کے انتظام میں شفافیت اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔
دوسری جانب خلیجی رہنما مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مذاکرات میں مشاورتی طرزِ عمل اپنایا جائے، کیونکہ ان کے مطابق خطے میں ہونے والی پیش رفت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی آراء کو ضرور شامل کیا جانا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستیں علاقائی سلامتی اور سفارتی اقدامات سے متعلق مذاکرات میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ فعال کردار کی خواہش رکھتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق روبیو کی سفارتی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ واشنگٹن ایران سے متعلق کسی بھی سفارتی فریم ورک کی کامیابی کے لیے علاقائی حمایت کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے دوران اہم اتحادیوں کا اعتماد برقرار رکھنا امریکہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی پالیسیاں قومی مفادات اور علاقائی تعاون پر مبنی ہیں، جبکہ وہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تہران نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیوں کا مقصد صرف پُرامن مقاصد حاصل کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی رابطے فوری کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم اب بھی کئی اہم چیلنجز موجود ہیں۔ سلامتی کے خدشات، پابندیوں، تصدیقی طریقہ کار اور علاقائی اثر و رسوخ سے متعلق اختلافات ایک پائیدار معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔
