پشاور — پشاور میں پولیس نے مبینہ زیادتی کے ایک مقدمے کو روایتی جرگے کے ذریعے نمٹانے کی کوشش ناکام بنا دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے سنگین جرائم، خصوصاً زیادتی کے مقدمات، قانون کے مطابق عدالتوں میں ہی نمٹائے جانے چاہئیں۔
پولیس کے مطابق انہیں اطلاع ملی تھی کہ مقامی عمائدین جرگے کے ذریعے معاملے کا تصفیہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر جرگہ منتشر کر دیا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی قانونی کارروائی باقاعدہ عدالتی نظام کے تحت جاری رہے گی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ سنگین فوجداری جرائم کو غیر رسمی معاہدوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا اور ایسے مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس واقعے کے بعد جرگوں کے کردار اور قانونی اداروں کے ذریعے انصاف کی فراہمی پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
حکام نے متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ اور تمام فوجداری مقدمات کو پاکستان کے قانونی نظام کے مطابق نمٹانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
