سرگودھا پولیس نے تصدیق کی ہے کہ شہر سے ملنے والی 7 سالہ بچی کی لاش کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتی کے شواہد ملے ہیں۔ اس افسوسناک انکشاف کے بعد پورے ضلع میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور پولیس حکام پر ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
متاثرہ بچی اتوار کے روز اپنے گھر کے قریب سے لاپتہ ہوئی تھی۔ تلاش کے 24 گھنٹوں کے اندر اس کی لاش شہر کے نواحی علاقے میں ایک ویران مقام سے ملی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے اغوا کا کیس قرار دیا تھا، تاہم طبی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اب اسے قتل اور زیادتی کے سنگین مقدمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تفتیش سے واقف ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہمارے پاس ابتدائی میڈیکل رپورٹ موجود ہے جو زیادتی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ اب ہم حتمی تصدیق کے لیے ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ملزمان تک پہنچا جا سکے۔”
بچی کے اہل خانہ صدمے سے نڈھال ہیں اور انہوں نے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کی صبح مقامی تھانے کے باہر مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر کے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور علاقے میں بچوں کی حفاظت پر سوالات اٹھائے۔
پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف اغوا اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ حتمی طبی رپورٹ ملنے کے بعد اس میں زیادتی کی مزید دفعات شامل کی جائیں گی۔ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں تاکہ شواہد کو جلد یکجا کیا جا سکے۔
تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم صرف کسی مشتبہ شخص کی تلاش میں نہیں بلکہ ایک درندے کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ جائے وقوعہ کے تین کلومیٹر کے دائرے میں موجود تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔”
یہ واقعہ پنجاب میں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کی ایک کڑی ہے، جہاں متاثرہ خاندان اکثر انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومت نے شفاف تحقیقات کا یقین دلایا ہے، مگر ورثاء کو خدشہ ہے کہ ماضی کے واقعات کی طرح اس کیس کی فائل بھی کہیں سرد خانے کی نذر نہ ہو جائے۔
فی الحال پولیس نے علاقے میں نفری بڑھا دی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔ کیس کا فیصلہ اب فرانزک رپورٹ پر منحصر ہے، جس کے آنے کے بعد ہی تفتیش کا رخ واضح ہو سکے گا۔
