اسلام آباد: پاکستان بھر کے تمباکو کے کاشتکاروں نے تمباکو کی قیمتوں کے موجودہ نظام کو ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے ہزاروں کسانوں کی آمدنی متاثر ہوگی اور زرعی شعبے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔
کاشتکاروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں کا نظام کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت دلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ نظام ختم کر دیا گیا تو کسان نجی خریداروں اور کمپنیوں کے رحم و کرم پر ہوں گے، جس سے انہیں اپنی فصل کم قیمت پر فروخت کرنا پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ طریقہ کار مارکیٹ میں شفافیت برقرار رکھنے اور چھوٹے کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ اس نظام کے خاتمے سے تمباکو کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ، کسانوں کے منافع میں کمی اور زرعی شعبے میں مالی مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی پالیسی میں تبدیلی سے قبل تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے اور ایسا متبادل نظام متعارف کرایا جائے جو کسانوں کے حقوق اور مفادات کا مکمل تحفظ کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کسان دوست پالیسیاں اپنانا چاہئیں تاکہ تمباکو کی پیداوار، دیہی معیشت اور کسانوں کی آمدنی متاثر نہ ہو۔
