پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) نے آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات میں مشترکہ طور پر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سیاسی اتحاد خطے میں موجودہ حکومتی جماعت کے خلاف ووٹوں کو یکجا کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے، جس نے مقامی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
دونوں جماعتوں کی قیادت نے منگل کی شب سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولے کو حتمی شکل دی۔ اس حکمت عملی کا مقصد پیپلز پارٹی کے روایتی ووٹ بینک اور جے یو آئی کے منظم تنظیمی نیٹ ورک کو یکجا کرنا ہے۔ اگرچہ حلقوں کی حتمی فہرست جاری نہیں کی گئی، لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد ان اہم اضلاع میں مؤثر ثابت ہوگا جہاں ماضی میں اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہونے سے فائدہ حکومتی امیدواروں کو پہنچتا رہا ہے۔
یہ اتحاد محض ہندسوں کا کھیل نہیں، بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی ایک کوشش ہے۔ دونوں جماعتیں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ انفرادی حیثیت میں مقابلہ کرنے سے اپوزیشن کا ووٹ بکھر جاتا ہے، جس کا فائدہ بالآخر حکمران جماعت کو ہوتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ایک سینئر اسٹریٹجسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم وسیع تر مفاد میں فیصلے کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف لڑنے سے صرف جمود کو تقویت ملتی ہے، اس اتحاد نے پورے انتخابی حساب کتاب کو بدل کر رکھ دیا ہے۔”
اس اتحاد میں جے یو آئی (ف) کی شمولیت سے مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ کا ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے۔ اگرچہ دونوں جماعتوں کا نظریاتی پس منظر مختلف ہے، تاہم جے یو آئی کی قیادت موجودہ سیاسی حالات کو قانون ساز اسمبلی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
مقامی سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس اتحاد کی کامیابی کا دارومدار نچلی سطح پر ووٹوں کی منتقلی پر ہے۔ پیپلز پارٹی کے سماجی و جمہوری نظریات کے حامل ووٹرز کے لیے جے یو آئی کے امیدواروں کو ووٹ دینا کتنا آسان ہوگا، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اصل امتحان کارکنوں کی سطح پر ہوگا، جہاں برسوں کی رقابت کو پس پشت ڈال کر ایک ہی امیدوار کی حمایت کرنا ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
حکمران جماعت کے لیے یہ اتحاد براہ راست خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا یہ بلاک برقرار رہتا ہے، تو اپوزیشن کئی ایسے حلقے جیتنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے جو اب تک محفوظ سمجھے جاتے تھے۔
سیاسی حساب کتاب تو سادہ ہے، مگر اس پر عمل درآمد خطرات سے خالی نہیں۔ انتخابات کی تاریخ قریب آتے ہی دونوں جماعتیں اب ایسے امیدواروں کے انتخاب میں مصروف ہیں جو دونوں کیمپوں کے ووٹرز کے لیے قابل قبول ہوں۔ یہ اتحاد کامیابی کی سیڑھی ثابت ہوگا یا مقامی اختلافات کی نذر ہو جائے گا، اس کا فیصلہ انتخابی مہم کے دوران ہونے والی پیش رفت سے ہوگا۔
