اسلام آباد — طے شدہ سفارتی ضوابط کے تحت، پاکستان اور بھارت نے بدھ کے روز ایک دوسرے کی جیلوں میں بند قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا ہے۔ اس عمل کے دوران، پاکستان نے مجموعی طور پر 715 ہندوستانی قیدیوں کی تفصیلات نئی دہلی انتظامیہ کے حوالے کیں، جن میں 306 ماہی گیر اور 409 عام شہری شامل ہیں۔ نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ناظمِ امور (چارج ڈی افیئرز) سعد وڑائچ نے یہ دستاویزات بھارتی حکام کے سپرد کیں، جبکہ اسلام آباد میں متعین بھارتی ناظمِ امور گیتیکا سریواستو نے بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی شہریوں کی فہرست پاکستانی وزارتِ خارجہ کے حکام کے حوالے کی۔
دستیاب معلومات کے مطابق، قیدیوں کی ان فہرستوں کا بیک وقت تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان سن 2008 میں طے پانے والے ‘قونصلر رسائی معاہدے’ (کونسلر ایکسیس ایگریمنٹ) کے تحت کیا گیا ہے۔ اس دوطرفہ دستاویزی معاہدے کی رو سے، دونوں پڑوسی ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ہر سال دو مرتبہ، یعنی یکم جنوری اور یکم جولائی کو، ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کے تازہ ترین اور تصدیق شدہ اعداد و شمار کا تبادلہ کریں گے۔ اس مستقل طریقہ کار کا بنیادی مقصد قیدیوں کی شناخت کو دستاویزی بنانا، انہیں قانونی امداد فراہم کرنا اور سزا پوری کرنے والے افراد کی وطن واپسی کے مراحل کو آسان بنانا ہے۔
