لاہور — لاہور پولیس نے کاہنہ کے علاقے میں گزشتہ روز ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے ہولناک واقعے میں ملوث مالکان اور تعمیراتی ٹھیکیدار کے خلاف باقاعدہ جنائی مقدمہ درج کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں 14 معصوم بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران نے تصدیق کی ہے کہ ایف آئی آر میں جائیداد کے مالکان اور ٹھیکیدار کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے افسر کاشف اسلم کی مدعیت میں تھانہ کاہنہ میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 322 (قتلِ خطا) اور 337-ایچ (غفلت کے باعث نقصان پہنچانا) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق، یہ نجی ٹیوشن سینٹر ریحان، فیضان، عثمان اور عمر نامی افراد کی ملکیت والے ایک مکان میں چلایا جا رہا تھا، جہاں واقعے کے وقت ریحان کی اہلیہ بچوں کو پڑھا رہی تھیں اور وہ خود بھی اس حادثے میں زخمی ہوئیں۔ تفصیلات کے مطابق، ملزمان مکان کی خستہ حال چھت پر مٹی ڈال کر اس پر اضافی بوجھ ڈال رہے تھے کہ شدید غفلت اور اوور لوڈنگ کی وجہ سے کمرے کی چھت اچانک نیچے آ گری، جس سے کمرے میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملبے سے 14 بچوں کی لاشیں اور 6 زخمی بچوں کو نکالا۔
لاہور پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران پراپرٹی کے مالک اور تعمیراتی کام کرنے والے ٹھیکیدار عمیر سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے تکنیکی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔ دوسری جانب، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو سخت احکامات جاری کیے ہیں کہ واقعے کے ذمہ دار تمام عناصر کا کڑا تعین کیا جائے اور معصوم بچوں کی جانیں لینے والے مجرموں کے خلاف سخت ترین تعزیراتی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
