کراچی — شہرِ قائد میں گیس کے شدید بحران نے جہاں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، وہیں ایک مقامی نوجوان نے باورچی خانے کے فضلے کو ایندھن میں بدل کر ایک نیا راستہ نکال لیا ہے۔
کراچی کے رہائشی ذیشان شاہ نے ایک ایسا بائیو گیس سسٹم تیار کیا ہے جو گھر کے روزمرہ کے فضلے — جیسے سبزیوں کے چھلکوں اور بچ جانے والے کھانوں — کو میتھین گیس میں تبدیل کر دیتا ہے۔ شہر کے گنجان آباد علاقوں میں جہاں پائپ لائن گیس کا پریشر غائب رہنا معمول بن چکا ہے، یہ چھوٹی سی ایجاد گھریلو صارفین کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
اس سسٹم کا طریقہ کار سادہ ہے۔ باورچی خانے کا کچرا ایک سیل بند ٹینک میں ڈالا جاتا ہے، جہاں بیکٹیریا نامیاتی مادے کو توڑ کر گیس پیدا کرتے ہیں۔ یہ گیس براہِ راست چولہے تک پہنچائی جاتی ہے۔ ایک یونٹ روزانہ چند کلو کچرا پروسیس کر کے دو سے تین گھنٹے تک کھانا پکانے کے لیے ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ذیشان شاہ کہتے ہیں، "لوگ گیس لائنوں کے سامنے گھنٹوں بیٹھ کر تھک چکے ہیں۔ انہیں اب ایسا حل چاہیے جو یوٹیلٹی گرڈ کا محتاج نہ ہو۔”
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کراچی میں گیس کی قلت سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔ شہری یا تو مہنگے ایل پی جی سلنڈرز خریدنے پر مجبور ہیں یا پھر بجلی کے ہیٹر استعمال کر رہے ہیں، جو ماہانہ بلوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ثابت ہوتے ہیں۔ بڑھتی مہنگائی کے دور میں یہ متبادل اب متوسط طبقے کی پہنچ سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔
اس سسٹم کا ایک اور فائدہ اس سے حاصل ہونے والا مائع فضلہ ہے، جسے گھر کے پودوں کے لیے کھاد کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یوں یہ منصوبہ نہ صرف توانائی کا مسئلہ حل کر رہا ہے، بلکہ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے بحران میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔
ماہرینِ توانائی کا ماننا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مرکزی نظامِ تقسیم زبوں حالی کا شکار ہے، ایسے چھوٹے پیمانے کے خود مختار منصوبے ہی طویل مدتی حل پیش کر سکتے ہیں۔ اگرچہ بڑے پیمانے کے بائیو گیس پلانٹس مالیاتی اور انتظامی رکاوٹوں کا شکار رہتے ہیں، لیکن گھریلو سطح کے یہ یونٹس ان تمام پیچیدگیوں سے آزاد ہیں۔
فی الحال یہ سٹارٹ اپ اپنے ڈیزائن کو مزید پائیدار بنانے پر کام کر رہا ہے تاکہ اسے کراچی کی مرطوب آب و ہوا کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اگر اس کا استعمال وسیع پیمانے پر شروع ہو جائے، تو یہ شہری علاقوں میں گیس کی مانگ کو کم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
